1971 کی جنگ کا جوانمرد ہیرو میجر محمد اکرم شہید

1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران جرات و بہادری کی لازوال داستان رقم کرنے والے میجر محمد اکرم شہید نشانِ حیدر فرنٹیئر فورس سے منسلک تھے۔ اکرم نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلسل 14 روز تک اپنے سے کئی گنا زیادہ بھارتی فوج کی پیش قدمی روک کر دشمن کے اوسان خطا کر دیئے اور ہر حملے کو ناکام بنایا۔میجر اکرم 4 اپریل 1938ء کو پیدا ہوئے، ان کا آبائی گاؤں ’’نکا خالص پور‘’ ضلع جہلم میں واقع ہے،ان کے والد حاجی ملک سخی محمد نے بھی پاک فوج کی پنجاب رجمنٹ کی شیر دل بٹالین میں خدمات انجام دیں۔ اُن کا یہ نظریہ تھا کہ فوج میں شامل ہو کر ملک و قوم کی خدمت سب سے اچھے طریقے سے کی جا سکتی ہیں، اسی نظریے کی بنا پر انہوں نے اپنے بیٹے اکرم کو فوج میں بھیجا۔

 

میجر اکرم نے ابتدائی تعلیم چکری مڈل سکول سے حاصل کی، جس کے بعد ملٹری کالج جہلم سے فارغ التحصیل ہو کر مارچ 1961 میں 28ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1963 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا اور پاک فوج کی مایہ ناز رجمنٹ 4 فرنٹیر فورس رجمنٹ میں شامل ہو گئے، 1965میں انہیں کیپٹن اور1970ء میں میجر کے عہدے پر ترقی ملی، ان کو اپنے کورس میں بہترین نشانے باز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ میجر اکرم نے 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے دوران سیالکوٹ کے ظفروال سیکٹر پر بہادری کے جوہر دکھائے۔ 1971کی پاک بھارت جنگ میں آپ کی کمپنی سابق مشرقی پاکستان کے ہلی سیکٹر پر دفاعِ وطن کے فرائض انجام دے رہی تھی، ہلی کے علاقے کی حیثیت ایک شہ رَگ کی سی تھی، دُشمن کو اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے آپ کے دفاعی مورچوں پر قبضہ کرنا ضروری تھا، دُشمن کا یہ منصوبہ تھا کہ ہلی پر قبضہ کر کے شمال میں متعین فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور سپلائی لائن کاٹ دی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے دشمن ایک ڈویژن سائز فورس بشمول تمام فضائی قوت کے ساتھ، آپ کی پوزیشن پر پے در پے 14 روز تک حملے کرتا رہا مگر میجر محمد اکرم اپنے بہادر ساتھیوں کے ہمراہ اُن کی ہر کوشش کو ناکام بناتے رہے۔

میجر اکرم جذبہ حُبُّ الوطنی، جنگی فہم و فراست اور انسانی حوصلوں کی معراج بن کر نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا اور خود راکٹ لانچر سے دشمن کے تین ٹینکوں کو  100گز کے فاصلے پر پوزیشن لے کر تباہ کر دیا۔دُشمن نے ایسا جوان کب دیکھا ہوگا جو سامنے آکر فائر کرے وہ بھی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر، اس دوران انہوں نے دُشمن کو پاکستان کی سر زمین پر ایک اِنچ بھی آگے نہ بڑھنے دیا اور بے مثال جرات و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری دم تک لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، اس یاد گار معرکے میں آپ نے فرض کی تکمیل کے لئے جس انداز میں جان کا نذرانہ پیش کیا وہ ایک لازوال حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی بے مثال جرات، دَلیری اور بے باکی کا اعتراف ہندوستانی کمانڈر انچیف نے بھی کیا، ہلی کے محاذ پر دُشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچانے پر میجر اکرم شہید کو ”ہیرو آف ہلی“ کے نام سے شہر ت ملی۔ بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرنے پر میجر محمد اکرم کو پاک فوج کے اعلیٰ ترین اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

Back to top button