حکومت اور تحریک طالبان کے مابین بھی معاہدہ ہو گیا

تحریک لبیک کے ساتھ امن معاہدہ کیے جانے کے بعد اب حکومتی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کے خفیہ مذاکرات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں اور پہلے مرحلے میں دونوں فریقین کے مابین ایک عارضی جنگ بندی کامعاہدہ طے پاگیا ہے جسکی تفصیلات ابھی خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کی غرض سے ایک وسیع تر امن معاہدے کے لیے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ ایک عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور تحریک طالبان کے نمائندوں کے مابین افغانستان کے جنوب مغربی صوبے خوست میں تقریباً دو ہفتوں سے بات چیت جاری تھی جسکا نتیجہ ایک عارضی مفاہمت کی صورت میں نکلا ہے۔ تاہم یہ معاہدہ اعتماد سازی کے لیے تحریک طالبان کے کچھ گرفتار جنگجوؤں کی رہائی سے مشروط ہے۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کتنے عسکریت پسندوں کو رہا کردیا جائے گا البتہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد 2 درجن سے زیادہ نہیں اور جب زیر حراست افراد رہا ہوجائیں گے تو دونوں جانب سے باقاعدہ جنگ بندی عمل میں آ جائے گی‘۔
تاہم ابھی تک باقاعدہ طور پر نہ تو حکومت پاکستان اور نہ ہی تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے اور دونوں جانب سے مکمل خاموشی ہے۔ اس دوران تحریک طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں اور بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت اور طالبان کے مابین طے پانے والے خفیہ معاہدے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ہونے والی ایک ماہ کی جنگ بندی میں توسیع اس بات پر منحصر ہو گی کہ مذاکرات کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔ یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کس نے کیے لیکن یہ طے ہے کہ ان مذاکرات میں افغان طالبان کی حکومت مصالحت کار اور ضامن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پاکستان اور تحریک طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور دونوں فریقین کو آمنے سامنے بات چیت کے لیے ایک چھت تلے لانے میں بھی انہوں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ سراج الدین حقانی کا تعلق القاعدہ سے ہے اور انہوں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے فاٹا کے قبائلی علاقوں میں کئی برس گزارے ہیں۔ ان کے والد جلال الدین حقانی بھی کئی دہائیوں تک پاکستان میں مقیم رہے اور چند برس پہلے ان کا انتقال ہوا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان سے مذاکرات براہِ راست سینیئر عسکری افسران نے کیے۔ ان مذاکرات میں ٹی ٹی پی کے تمام گروہ شامل تھے، اس دوران بہت ساری تجاویز سامنے آئیں اور دونوں فریقین نے ایک قابل عمل حل نکالنے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم حکومتی ناقدین تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے بعد اب تحریک طالبان کے ساتھ معاہدے کے عمل کو ریاست پاکستان کی رٹ برباد کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے ساتھ نرمی برتنے کی بجائے انہیں سختی سے کچل دینا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قاتل دہشت گرد تنظیم سے معاہدہ کرنا اور ان کو معافی دینا شہیدوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان سے ہتھیار ڈالنے کے لیے افغان طالبان کے ذریعے بات چیت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان کے چند گروپس ہم سے مصالحت کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مختلف گروپس پر مشتمل ہے اور ہم ان میں سے چند کے ساتھ ہتھیار ڈالنے اور صلح کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ٹی ٹی پی والوں سے بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہتھیار ڈالنے پر انہیں معاف کردیں گے جسکے بعد وہ پاکستان میں عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مسئلے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا اور سیاستدان ہونے کے ناطے مذاکرات کو ہی صحیح راستہ سمجھتا ہوں۔
تاہم ناقدین نے عمران خان کا یہ موقف سختی سے رد کر دیا تھا اور یاد دلایا تھا کہ وہ پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تو مذاکرات پر تیار نہیں لیکن ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتلوں کے ساتھ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ افغان طالبان کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ یہ دونوں تنظیمیں کالعدم ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر عارف علوی بھی طالبان کو ہتھیار پھینکنے کے عوض عام معافی دینے کا عندیہ دے چکے تھے۔ آرمی چیف اور صدر علوی نے مختلف مواقع پر یہ کہا تھا کہ ٹی ٹی پی اگر آئینِ پاکستان کے تحت چلنا چاہے اور ہتھیار ڈال دے تو اسے عام معافی دینے کا سوچا جا سکتا ہے۔
تاہم تحریک طالبان کو عام معافی دینے کی تجویز کی مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے افواج پاکستان اور عوام کو نشانہ بنایا اس لئے انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتل طالبان کو معافی دینے کا سوچنا بھی شہیدوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا۔
