حکومت اور سپریم کورٹ میں کس معاملے پر میچ پڑ سکتا ہے

قومی اسمبلی میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور ہونے کے بعد یہ سوالات بھی کھڑے ہوگئے ہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ کیا موقف اختیار کرے گی۔ عدالت کے لیے ایک اہم نکتہ پارلیمنٹ کی جانب سے وہ ترمیم ہے جس کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا معاملہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ ترمیم سپریم کورٹ کے جوڈیشل ریویو کے اختیار پر قدغن عائد کرتی ہے جس کی سپریم کورٹ کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست کے دو حصے ہیں ایک آرمی چیف کے سلسلے میں جبکہ دوسرا آرمی کے ادارے کے بارے میں ہے، جبکہ ترمیمی بل تو افواج پاکستان کے سربراہان سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس بات کو کنفیوژ کررہے ہیں کہ نظر ثانی کی درخواست کا اب کیا ہو گا۔ حکومت نظرثانی کی درخواست میں پارلیمنٹ سے کی جانے والی قانون سازی کی تفصیلات سے آگاہ کرے گی۔
آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد اس کا اطلاق 27 نومبر 2019 سے ہو رہا ہے تو اس صورت میں 28 نومبر 2019 کا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ غیر موثر ہوگا کہ نہیں کیوںکہ ترمیمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کی تقرری کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی۔
اس بارے میں سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کی رائے ہے کہ یہ بہت باریک قانونی نکتہ ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فیصلہ غیر موثر نہیں ہوگا لیکن نظرثانی درخواست دائر ہی اس لیے کی تھی تاکہ عدالت خود اپنے فیصلے کو ختم کرے۔ عرفان قادر نے کہا کہ نظرثانی درخواست اپنی جگہ موجود رہے گی کیوںکہ حکومت خود چاہتی ہے کہ عدالت عظمیٰ اس قانون سازی کی روشنی میں اپنی حدود کا تعین کرے اور نظرثانی درخواست کے فیصلے میں خود ہی لکھ دے کہ عدالت اپنی حد سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کے لیے دی جانے والی ہدایت آئین کے آرٹیکل 243 کی خلاف ورزی ہے اور عدالت ویسے بھی پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت نہیں دے سکتی۔ یاد رہے کہ حکومت نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آئین میں متعلقہ ترامیم 6 ماہ کے اندر کرنے کے بعد عدالت کو آگاہ کرے گی۔ تاہم کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت نے ذہن تبدیل کرتے ہوئے اسی عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
7 جنوری 2019 کو پارلیمنٹ سے آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد یہ بل 27 نومبر 2019 سے موثر ہوگا۔اب پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کی شق 39 میں نیا باب شامل کیا گیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ صدر وزیراعظم کے مشورے پر ایک جرنیل کو تین سال کی مدت کےلیے پاک آرمی کا سربراہ مقرر کریں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کی قیود و شرائط کا تعین صدر، وزیراعظم کے مشورے سے کریں گے۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق صدر وزیراعظم کے مشورے پر آرمی چیف کی اضافی تین سال کےلیے دوبارہ تقرری یا توسیع دے سکیں گے۔ آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد اگر عمر کی حد 64 سال سے کم ہے تو صدر وزیراعظم کے مشورے پر تین سال کی مدت کےلیے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بھی مقرر کرسکتے ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی شرائط کا تعین صدر وزیراعظم کے مشورے سے کریں گے۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق صرف آرمی چیف ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مفاد یا ہنگامی صورت حال پر صدر وزیراعظم کے مشورے سے چیئرمین جوائنٹ چیف کی بھی دوبارہ تقرری یا تین سال کےلیے توسیع ہوسکتی ہے۔ یہی ترامیم فضائیہ اور نیوی کےلیے بھی ہیں۔ تینوں مسلح افواج کے سربراہان پر عمر کی حد 64 سال مقرر کی گئی ہے۔
نئی ترمیم کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر، دوبارہ تقرری یا توسیع اور تقرر کرنے والی اتھارٹی کی صوابدید کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لائی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جس پر حکومت اور عدلیہ کا اگلا میچ پڑنے کا امکان ہے کیونکہ سپریم کورٹ کسی بھی صورت میں اپنے جوڈیشل ریویو کے اختیار پر قدغن لگانے کی اجازت نہیں دے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button