بالآخر عمران کی حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیشکش

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ الیکشن کا کا نام نہیں لیتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، ہم ان کو موقع دیتے ہیں،یہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ دیں ورنہ ہم اسمبلیاں توڑ دیں گے۔
پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کو فکر مند ہونا چاہیے، یہ ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ جب یہ جائیں گے، ایسے حالات ہو جائیں گے کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ سنبھال نہیں سکے گی، ان لوگوں نے 2008 سے 2018 تک 4 گنا قرضے بڑھائے، جس پر اب سود دینا پڑتا ہے، پاکستان نے قرضے کی قسطیں ادا کرنی ہیں، اگر آمدنی نہیں بڑھتی تو قرض واپس کرنے کی ہماری استطاعت کم ہوتی جائے گی، ہمارے دور حکومت برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس ریونیو بھی بڑھ رہا تھا، انہوں نے آتے ساتھ ہی انہوں نے فیصلے کیے تو مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی، روپیہ گرنا شروع ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جارہے ہیں، اگر کوئی بیل آؤٹ بھی کرے گا تو پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی، آج سی ڈی ایس ہوتا ہے کہ پاکستان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت، یہ ہمارے دور میں 5 فیصد تھا کہ پاکستان قرضے واپس نہیں کرسکے گا، آج 100 فیصد سے اوپر پہنچ گیا ہے، باہر کی دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان قرضے واپس نہیں کرسکتا۔
عمران خان نے سوال اٹھایا کہ ان (حکومت) کے پاس کیا طریقہ ہے کہ ملک کو اس صورتحال سے نکالیں گے، ان کے پاس کوئی روڈمیپ نہیں ہے، اسحٰق ڈار نے شروع میں آ کر کہا کہ میں موڈیز کو بھی ٹھیک کردوں گا، آئی ایم ایف کو بھی ٹھیک کر دوں گا، آج وہ چپ کرکے بیٹھ گیا ہے، باہر سے لوگ پاکستان میں نہ سرمایہ کاری کریں گے، نہ باہر کے کمرشل بینکس پاکستان کو قرضے دیں گے کیونکہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ 100 فیصد سے بڑھ گیا ہے، ہمارے دور میں صنعتی ترقی 10.7 فیصد تھی، جس سے نوکریاں مل رہی تھیں، فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو مزدور نہیں مل رہے تھے، آج صنعتی ترقی کی شرح ایک فیصد پر آ گئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے دور میں 4 بمپر فصلیں ہوئی تھیں، آج کسان اس لیے رو رہا ہے کہ ڈیزل کی قیمت کہاں سے کہاں چلی گئی ہے، یہ جب تحریک عدم اعتماد لائے تھے تو ڈالر 178 روپے کا تھا، آج ان کے آفیشل ریٹ کو چھوڑیں، مارکیٹ میں ڈالر 250 روپے پر نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے لاگت اوپر چلی گئی ہے، 50 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز میں بھی اضافہ ہوا ہے، ہماری لیے کوئی نقصان نہیں ہو رہا، گالیاں تو ان کو پڑ رہی ہیں لیکن ملک بیٹھتا جارہا ہے، اگر ہم ابھی الیکشن کی طرف نہیں جاتے تو سیاسی استحکام نہیں آئے گا، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معیشت میں بھی استحکام نہیں آئے گا اور ان کے پاس اس کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا ٖفیصلہ کیا ہے، اس کا مقصد پاکستان ہے، ہمارے ملک کی اس وقت ضرورت ہے کہ ہم جلدی سے الیکشن میں جائیں گے، اس لیے کہ جب مستحکم حکومت آئے گی، باہر اور ملک میں مارکیٹس کو اعتماد ہوگا کہ حکومت 5 سال کے لیے آ گئی ہے، پھر لوگ منصوبہ بندی کریں گے، سرمایہ کار ہمیشہ سوچتا ہے کہ جب میں پیسہ لگاؤں گا تو ملک میں ایک سال، 2 سال یا 3 سال کے بعد کیا ہوگا کیونکہ اس کو ایک دم نفع ملنا شروع نہیں ہوتا، جب اس کو اعتماد ہی نہیں ہوگا کہ حکومت کتنی دیر چلے گی، آگے کیا ہوگا، تو وہ پیسہ روک کر بیٹھ جاتے ہیں، جو آج پاکستان میں ہوا ہے، اس لیے الیکشن کروانے ہیں تاکہ سیاسی استحکام سے معاشی استحکام آئے۔
عمران خان نے کہا کہ دوسرا مسئلہ صوبوں کے اندر ہے، پنجاب میں 176 ارب روپے وفاق نے دینے تھے جو انہوں نے نہیں دیے، خیبرپختونخوا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے، وفاق نے 120 ارب روپے دینے تھے، وہاں پر بھی شارٹ فال آ گیا، اسی طرح گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ وفاق پیسے نہیں دے رہا، میں نے سنا ہے کہ بلوچستان میں بھی یہی مسئلہ ہے، ایک طرف تو ملکی معیشت نیچے جارہی ہے تو دوسری طرف صوبوں کے اندر بحران آ گیا ہے، صوبائی حکومتوں کے اگر پروجیکٹس ہی پورے نہیں ہوں گے، تو ہم پرفارمنس کیسے دکھائیں گے؟ صوبوں میں ایک دوسرا خوف آ گیا ہے۔
