پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی تحریک ناکام کیوں ہو گی؟

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر سے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان تو کر دیا گیا ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس تحریک کی کامیابی کے امکانات ماضی کی طرح صفر ہیں۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات، قیادت کے درمیان حکمت عملی پر اختلافِ، حکومتی کریک ڈاؤن کے باعث کارکنوں کی غیر متحرک کیفیت اور پنجاب اور سندھ میں مؤثر عوامی سرگرمی کا فقدان ایسے عوامل ہیں جنہوں نے تحریک انصاف کے اعلان کردہ لانگ مارچ کی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

تحریک انصاف ماضی میں بھی متعدد احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ کے ذریعے عمران خان کی رہائی اور حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم ان کوششوں سے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اب 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کیے جانے کے بعد پارٹی کو ایک مرتبہ پھر یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ نہ صرف لاکھوں کارکنوں کو متحرک کرے بلکہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک احتجاجی ماحول کو برقرار بھی رکھے۔
پارٹی کے اندر بعض رہنماؤں اور کارکنوں نے 27 ستمبر کی تاریخ پر ہی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر مقصد عمران خان کی رہائی اور حکومت پر فوری دباؤ بڑھانا ہے تو احتجاج کی تاریخ اتنی دور مقرر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

کئی پارٹی رہنماؤں کے مطابق احتجاج کے لیے اتنی لمبی تاریخ دینے سے کارکنوں کا جوش ماند پڑ سکتا ہے اور احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی توانائی کم ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ اختلاف اس وقت مزید نمایاں ہوا جب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی احتجاج کی تاریخ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ 5 اگست کو پشاور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے قبل علیمہ خان نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ خود جلسے میں شریک نہیں ہوئیں۔ جلسے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کو مزید انتظار کیوں کروایا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان کو پارٹی کے اندر احتجاج کی تاریخ پر پائی جانے والی بے چینی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی سید قاسم علی شاہ نے بھی 27 ستمبر کو بہت دور کی تاریخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اسی ماہ اسلام آباد مارچ کی کال دی جائے گی۔ ان کے مطابق 14 یا 27 اگست کو مارچ کی کال زیادہ مؤثر ہوسکتی تھی، کیونکہ احتجاج میں تاخیر کا مطلب عمران خان کا مزید عرصہ جیل میں گزارنا ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ 5 اگست کے جلسے اور اسلام آباد مارچ کی تاریخ مقرر کرنے سے قبل صوبائی قیادت اور منتخب نمائندوں سے مکمل مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق کارکن طویل عرصے سے احتجاجی تحریک کے منتظر تھے لیکن تقریباً دو ماہ بعد کی تاریخ مقرر کیے جانے سے پارٹی کے اندر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ مذکورہ رہنما کے بقول بیشتر منتخب نمائندے رواں ماہ ہی اسلام آباد مارچ کے خواہاں تھے۔

پارٹی کے اندر اختلافات کا ایک اہم پہلو خیبرپختونخوا کی قیادت کا کردار بھی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کرچکے ہیں، تاہم بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ان کے کردار، فیصلوں اور مرکزی قیادت کے ساتھ ہم آہنگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بحث بھی جاری ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی سیاسی سرگرمیاں عمران خان کی ہدایات اور مرکزی قیادت کی حکمت عملی سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے 27 ستمبر کا مارچ ایک بڑا سیاسی امتحان بن چکا ہے۔ انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے پس منظر میں یہ تاثر موجود رہا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے زیادہ فعال سیاسی کردار ادا کریں گے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے طرزعمل میں نسبتاً لچک کے تاثر نے پارٹی کے بعض حلقوں میں سوالات پیدا کیے ہیں۔

پشاور کے سینئیر صحافی کامران علی کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت سیاسی طور پر تنہا دکھائی دے رہے ہیں اور اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ان کے بیانات میں واضح لائحہ عمل کے بجائے اب بھی اگر مگر کی کیفیت نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ پی ٹی آئی شاید فی الحال بڑے پیمانے پر مارچ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں اور اسی وجہ سے احتجاج کے لیے نسبتاً طویل وقت دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اور سوال مطالبات کی نوعیت کا ہے۔ مارچ کے اعلان میں عمران خان کی فوری رہائی کے ساتھ ان کے علاج، مقدمات کی جلد سماعت اور ملاقاتوں جیسے معاملات کو بھی نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ 27 ستمبر کی تحریک کا بنیادی ہدف عمران خان کی فوری رہائی ہوگا یا ان کے بنیادی حقوق اور سیاسی رسائی کے حصول کو مرکزی مطالبہ بنایا جائے گا۔

تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے پارٹی کے اندر اختلافات اور عدم مشاورت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کا فیصلہ پارٹی اور اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور مذہبی جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔
شفیع جان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مارچ محض چند گھنٹوں یا ایک دن کا احتجاج نہیں ہوگا بلکہ اس میں کئی دن لگ سکتے ہیں، اس لیے پارٹی نے مکمل تیاری کے لیے وقت رکھا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے پی ٹی آئی نے ہر ممکن راستہ اختیار کیا، تاہم ان کے بقول جب قانونی راستے مؤثر ثابت نہیں ہوئے تو لانگ مارچ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

تاہم زمینی صورتحال پی ٹی آئی کے دعووں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حکومتی کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، مقدمات اور گزشتہ احتجاجی سرگرمیوں کے بعد پارٹی کارکنوں میں خوف اور بددلی کے باعث پنجاب اور سندھ میں اس وقت ایسی بڑی عوامی سرگرمی نظر نہیں آرہی جس سے اندازہ ہو کہ 27 ستمبر کی تحریک ایک ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہی صورتحال پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا عملی چیلنج ہے۔ محض سیاسی بیانات، سوشل میڈیا مہم اور لاکھوں افراد کی شرکت کے دعوے کافی نہیں ہوں گے بلکہ پارٹی کو عملی طور پر کارکنوں کو گھروں سے نکالنا، انہیں مختلف شہروں سے منظم انداز میں اسلام آباد پہنچانا اور احتجاج کو کئی دن جاری رکھنے کے لیے وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔
اس معاملے میں خیبر پختونخوا کو پی ٹی آئی کی سب سے بڑی سیاسی قوت سمجھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے لاکھوں افراد کو اسلام آباد لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ کتنے کارکن واقعی صوبے سے نکل کر وفاقی دارالحکومت تک پہنچتے ہیں۔ اس کا اندازہ ستمبر کے آغاز میں پارٹی کی رابطہ مہم اور جلسوں سے لگایا جا سکے گا۔
پنجاب، جو آبادی اور سیاسی اہمیت کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، وہاں فی الحال پی ٹی آئی کی طرف سے ایسی بھرپور سرگرمی نظر نہیں آ رہی جس سے یہ ثابت ہو کہ پارٹی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی پوزیشن میں ہے۔

دوسری طرف حکومت بھی پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس حوالے سے انتظامی اور سیاسی حکمت عملی تیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا جائے گا۔ تاہم ساتھ ہی حکومتی مؤقف یہ بھی ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ 27 ستمبر کی تحریک کے اعلان کے باوجود فی الحال اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کے بارے میں سیاسی حلقوں میں خاصا شکوک پایا جاتا ہے۔

Back to top button