حکومت ڈسکہ دھاندلی میں ملوث افسران کو ہٹانے سے گریزاں

کئی روز گزر جانے کے باوجود وفاقی اور پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ڈسکہ دھاندلی کے ذمہ دار سینئر پولیس اور سویلین افسران کو نہ تو ابھی تک معطل کیا ہے اور نہ ہی ان کے عہدوں سے ہٹایا ہے جسکے مزید تاخیر کی صورت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی سخت کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کے الیکشن کمیشن کے احکامات ہائی کورٹ احکامات کے مساوی ہوتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود ابھی تک صرف تین جونیئر افسران یعنی اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ اور دو ڈی ایس پیز کو معطل کیا گیا ہے جبکہ دیگر تمام سول اور پولیس افسران جن کی معطلی یا تبادلوں کے احکامات جاری کیے گئے تھے وہ اپنے عہدوں پر بدستور کام کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو حکم دیا تھا کہ کمشنر اور آر پی او گجرانوالہ کو فوری طور پر انکے عہدوں سے ہٹایا جائے جبکہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ضلع سیالکوٹ، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ اور ڈی ایس پی سمڑیال اور ڈسکہ کو معطل کر دیا جائے۔
دوسری طرف ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈسکہ فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، شاید اس لیے سینئر افسران کی معطلی اور تبادلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ تین جونیئر افسران کو تو فوری طور پر معطل کر دیا گیا لیکن سینئر افسران کے خلاف ایکشن لینے سے پرہیز کیا جا رہا ہے۔ حکومت شاید اس وجہ سے بھی ان افسران کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے کہ فارغ ہو جانے کی صورت میں یہ لوگ حکومت کے خلاف سلطانی گواہ بن سکتے ہیں اور ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی کروانے والے اصل حکومتی کرداروں کے نام لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 4 مارچ کو آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی ڈسکہ دھاندلی کیس میں طلب کر رکھا ہے تاکہ اصل ذمہ داران کے نام سامنے آ سکیں۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے نہ صرف ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دے کر پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا تھا بلکہ کئی افسران کو معطل اور تبدیل کرنے کا بھی حکم جاری کیا تھا۔ اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت معطل اور ہٹائے گئے افسران کے خلاف انکوائری کے زیر التواء فیصلے کے معاملے پر بہت پریشان ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر ان افسران کو آزاد انکوائری کا سامنا کرنا پڑا تو یہ افسران اُن افراد کے نام بتا سکتے ہیں جن کے کہنے پر وہ دھاندلی میں مدد کر رہے تھے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ یہ بات طے ہے کہ یہ افسران اپنے تئیں کام نہیں کر رہے تھے اور انہیں وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری، فردوس عاشق اعوان اور عثمان ڈار کی جانب سے مسلسل ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ الیکشن کی رات 23 پولنگ اسٹیشنز کے ریٹرننگ افسران کے دھند میں غائب ہو جانے کا منصوبہ بھی وزیراعظم کی نگرانی میں کام کرنے والے خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو نے تشکیل دیا تھا جس میں سپیشل برانچ کے اہلکاروں نے اس کی مدد کی۔ لیکن جس حرکت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سخت کاروائی کرنے پر مجبور کیا وہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے فون نہ سننا اور ان کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنا تھا۔ اسی لئے ان دونوں افسران کو الیکشن کمیشن نے 4 مارچ کو اسلام آباد طلب کر رکھا ہے۔
دوسری طرف وفاقی اور پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے حکم پر جزوی عمل کرتے ہوئے دھاندلی میں ملوث صرف تین جونیئر افسران کے خلاف کارروائی کی یے جبکہ سیئیر پولیس اور سویلین انتظامیہ کے افسران معطلی اور تبادلوں کے احکامات جاری ہونے کے باوجود اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ جن افسران کے خلاف الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود ابھی تک ایکشن نہیں لیا گیا ان میں کمشنر اور آر پی او گجرانوالہ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او ضلع سیالکوٹ شامل ہیں۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت، تمام حکومتی عہدیدار الیکشن کمیشن کے احکامات کی تعمیل کے پابند ہیں تاکہ آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جا سکیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس قانون کے تحت وسیع تر اختیارات ہیں اور تمام ایگزیکٹو حکام کا فرض ہے کہ وہ فرائض کی انجام دہی کیلئے کمیشن کی معاونت کریں۔ ذرائع نے کہا کہ نہ تو کوئی ادارہ یا حکومتی عہدیدار الیکشن کمیشن کے احکامات نظرانداز کر سکتا ہے اور نہ ان کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ الیکشن ایکٹ کی شق نمبر چار کے تحت، اپنے امور اور فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ادارہ مختلف احکامات جاری کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے احکامات ملک بھر میں نافذ کیے جا سکتے ہیں اور یہ ہائی کورٹ کے احکامات کے مساوی ہوتےہیں۔ لہذا اگر کوئی حکومتی عہدیدار یا ادارہ الیکشن کمیشن کے احکامات کو نظرانداز یا خلاف ورزی کرتا ہے تو کمیشن ہائی کورٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایسے شخص یا ادارے کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ اپنے احکامات کی خلاف ورزی پر انضباطی کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داران کو سزا سنا دے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے افسران کو موطل کرتی ہے یا کمیشن کو اپنے خلاف کارروائی پر اکساتی ہے۔
