حکومت کو عمران خان پر حملے کی جے آئی ٹی پر اعتراض

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی پر وفاقی حکومت کی جانب سے اعتراض عائد کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ پنجاب کو مراسلہ میں بتایا گیا کہ تمام ممبران پنجاب پولیس سے تعلق رکھتے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 19 (1) کے تحت کسی بھی دوسرے تحقیقاتی ادارے کے افسر خاص بشمول انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار کی شمولیت ضروری ہے۔
تاہم جے آئی ٹی میں کسی اور ایجنسی یا خفیہ ادارے کا نمائندہ شامل نہیں ہے اور تمام ممبران پنجاب پولیس سے تعلق رکھتے ہیں، مراسلے میں وفاقی حکومت نے جےآئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی کے نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی کہ اچھا ہوگا، پنجاب حکومت، جے آئی ٹی میں وفاقی ایجنسیز کے نمائندے بھی شامل کرے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی کا سربراہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کو بنایا جن کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن معطل کر چکا ہے، غلام محمود ڈوگر کو عارضی طور پر فیڈرل سروس ٹربیونل سے ریلیف ملا، ایسے آفیسر کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کرنے سے شفاف تحقیق ممکن نہیں۔

خیال رہے منگل کو پنجاب حکومت نے وزیرآباد میں عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔ مشیر داخلہ پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر جے آئی ٹی کے کنوینر ہوں گے۔‏جے آئی ٹی میں آر پی او (ڈیرہ غازی خان) سید خرم علی، احسان اللہ (اے آئی جی) مانیٹرنگ، انویسٹی گیشن برانچ)، ایس پی پوٹھوہار ملک طارق محبوب اور نصیب اللہ خان، ایس پی سی ٹی ڈی بھی ٹیم میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان پر لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے تین نومبر کو وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔اس حملے میں عمران خان کو چار گولیاں لگیں، جبکہ سات سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد عمران خان کئی روز تک شوکت خانم ہسپتال لاہور میں زیرعلاج رہے۔

اسی حملے کے دوران تحریک انصاف کا ایک کارکن معظم، حملہ آور کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا، عمران خان نے اس حملے کا الزام وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور ایک فوجی افسر پر عائد کیا تھا، پی ٹی آئی کی جانب سے اس واقعے کی ایف آئی آر میں ان تینوں شخصیات کو نامزد کیا گیا تھا تاہم مقدمے میں ان کا ذکر موجود نہیں۔

Back to top button