حکومت کی سادگی اپناؤ مہم پر معاشی ماہرین کی تنقید کیوں؟

وفاقی حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کیلئے شروع کی جانے والی سادگی اپناؤ مہم معاشی ماہرین کی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے سطحی فیصلوں سے حکومت عوام حمایت یا خوشنودی تو حاصل کر سکتی ہے تاہم ایسے فیصلے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کارگر ثابت نہیں ہوتے۔خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اخراجات کو کم کرنے کے لیے سادگی اپناؤ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت وفاقی وزیروں اور سرکاری افسران کے بیرونی دوروں کو محدود کر دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت وزراء اور سرکاری افسران کے غیر ضروری سرکاری دوروں اور فائیو اسٹار ہوٹلز میں قیام پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


دوسری جانب معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اس طرح کے مصنوعی اقدامات کچھ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا پڑیں گے۔ مبصرین کے مطابق حکومتی سطح پرایسی مہم پہلی بار نہیں چلائی جا رہی۔ سادگی اپناؤ مہمات ماضی میں بھی چلتی رہی ہیں۔ سابق نگراں وزیر اعظم مرحوم ملک معراج خالد نے بغیر پروٹوکول کے سفر کرنا شروع کیا تھا جبکہ عمران خان کی حکومت نے بھی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کم کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم ناقدین کے مطابق ان کے دور حکومت میں ریکارڈ سطح پر اندرونی اور بیرونی قرضے لیے گئے۔معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مصنوعی اقدامات سے معیشت کو بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ ”شہباز شریف اس طرح کی پبلک ریلیشننگ ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں، جن سے گورننس اور اصلاحات پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ افسر شاہی، فوج اور عدلیہ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ اس طرح کے اقدامات کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ماہرین کے مطابق معیشت کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کخ بجائے ضروری ہے کہ نان فائلرز اور ٹیکس چوروں سے ٹیکس وصول کیا جائے، ”اور کھربوں روپے کا جو ٹیکسوں میں استشنیٰ دیا جاتا ہے، اس کو ختم کیا جائے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ماہر معیشت ڈاکٹر شاہدہ وزارت بھی اس مہم کو ناکافی قرار دیتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کا ایک طریقہ ہے۔ شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی اخراجات کو کم کرنا چاہتی ہے، تو مفت پٹرول اور بجلی کی بندر بانٹ کو بند کیا جائے، ”ہیلی کاپٹرز اور بلٹ پروف کاروں کے استعمال کو ختم کیا جائے۔ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز سے دوبارہ سے بات چیت کی جائے، ”اور جن کی معاہدوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے، ان کے ساتھ نئے معاہدے نہ کیے جائیں۔‘‘دوسری جانب نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر محمد اکرم بلوچ کا کہنا ہے کہ ایک سینیٹر کو مختلف کٹوتیوں کے بعد تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار کے قریب تنخواہ ملتی ہے جبکہ اس کو ایئر لائن کی ٹکٹ کے حوالے سے واچرز بھی ملتے ہیں، جو سال میں تقریبا اٹھارہ سے انیس بن جاتے ہیں۔ ” اراکین کو کمیٹی کے اجلاس کے لیے بھی خرچہ ملتا ہے اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا فی دن آٹھ ہزار آٹھ سو روپے کا وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔‘‘اراکین کو بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، ”اور بیرونی دوروں کے دوران ادائیگی ڈالرز میں کی جاتی ہے۔ کمیٹیوں کے چیئرمین کو ایک ڈرائیور، باورچی، معاون اور فیول کی مد میں بھی پیسے ملتے ہیں۔


دوسری جانب ڈی ڈبلیو کی ریسرچ کے مطابق اگر ایک رکن قومی اسمبلی کی ماہانہ اوسطاً تنخواہ اور مراعات تین لاکھ روپے کی بنتی ہیں، تو چاروں صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں اور مراعات پانچ برس میں 19 ارب روپے کے قریب بن سکتی ہیں۔محمد اکرم بلوچ کا کہنا ہے، ”اگر امیر اراکین اسمبلی اپنی تنخواہوں اور مراعات سے مکمل دستبرداری کا اعلان کریں، تو اس سے قومی خزانے کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔‘‘ ورنہ سادگی اپناؤمہم جیسے اقدامات کا ملکی معیشت کو کوئی فائدہ نہیں مل سکتا۔

Back to top button