اگلا سینٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی ہو گا یا انوار الحق کاکڑ؟


پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ کی 48 نشستوں پر دو اپریل کو ہونے والے انتخابات کے لیے 147 امیدوار میدان میں آ گئے ہیں۔سینیٹ کی خالی ہونے والی 48 نشستوں میں 29 جنرل نشستیں ہیں جن میں ہر ایک صوبے کی سات، سات جبکہ ایک جنرل نشست اسلام آباد کی ہے۔جنرل نشستوں پر 81 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں جبکہ ٹیکنوکریٹ/ علماء کی کل نو نشستوں پر 34، خواتین کی آٹھ نشستوں پر 26 اور اقلیت کی دو نشستوں پر چھ امیدوار مقابلے کے لیے سامنے آئے ہیں۔دو اپریل کو سندھ اور پنجاب اسمبلی کے اراکین اپنی اپنی اسمبلی ہال میں 12، 12 سینیٹرز کے انتخابات کے لیے ووٹ کا حق استعمال کریں گے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین اپنی اپنی اسمبلی ہال میں 11، 11 سینیٹرز کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔قومی اسمبلی ہال میں دو اپریل کے دن قومی اسمبلی کے اراکین دو سینیٹرز کے انتخاب کے لیے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔


انتخابات کے بعد سینیٹ کا اجلاس طلب ہو گا اور نو منتخب اراکینِ سینیٹ بطور رکن حلف اٹھائیں گے۔ اس طرح سینیٹ کا ایوان 100 اراکین سے بھی کم ہوکر 96 کا ہوجائے گا۔واضع رہے کہ قبائلی علاقے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سینیٹ کی چار نشستوں پر آئین کے تحت انتخاب نہیں ہو رہا جس کے باعث سینیٹ کا ایوان 100 کے بجائے 96 ارکان کا ہو جائے گا۔دو اپریل کو منتخب ہونے والے سینیٹ اراکینِ سمیت 96 ارکین سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔مبصرین کےمطابق اس مرتبہ سینیٹ کے انتخابات ماضی سے کچھ اس طرح مختلف ہیں کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے کئی سینئر رہنماؤں کو نظر انداز کر کے ایسے افراد کو منتخب کرانے جا رہی ہیں جن کا پارٹی سے کبھی دیرینہ تعلق نہیں رہا۔

پیپلز پارٹی نے 1993ء سے سینیٹر منتخب ہونے والے سینیئر رہنما میاں رضا ربانی کو ٹکٹ کی درخواست کے باوجود اس بار سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دیا جس کے باعث وہ طویل عرصے کے بعد اب سینیٹ کے ایوان کا حصہ نہیں ہوں گے۔رضا ربانی نے ٹکٹ نہ ملنے کے باعث کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع نہیں کرائے۔پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات اور زمانہ طالب علمی سے پارٹی کے ساتھ وابستہ رہنے والے عاجز دھامراہ، سینیئر رہنما وقار مہدی اور دیگر کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے علاوہ مولا بخش چانڈیو، بہرامند تنگی، ن لیگ کے ڈاکٹر آصف کرمانی، مشاہد حسین سید، علامہ اقبال کے پوتےپی ٹی آئی رہنما ولید اقبال، قائد حزب اختلاف ڈاکٹر وسیم سجاد کو ان کی پارٹی نے ٹکٹ جاری نہیں کیے اس لیے وہ سینیٹر منتخب نہیں ہو سکیں گے۔اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے مشتاق احمد بھی سینیٹر منتخب نہیں ہو سکیں گے، جبکہ حال ہی میں چیئرمین سینیٹ رہنے والے صادق سنجرانی رکن بلوچستان اسمبلی، سینیٹر سرفراز بگٹی وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے کے باعث اب ایوان بالا کا حصہ نہیں ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی قاضی آصف کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے ملک بھر میں سینیٹ انتخابات کے لیے 60 فی صد نشستوں پر اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا ہے جب کہ 40 فی صد پر ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کے خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان بلوچستان سے سینیٹ کا انتخاب لڑنے جا رہے ہیں۔ایمل ولی خان کو پیپلز پارٹی نے اے این پی کے ساتھ اپنا مشترکہ امیدوار قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی بلوچستان سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کچھ ایسے لوگوں کو سینیٹر منتخب کرانے جا رہی ہے جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ جن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، احد چیمہ اور مصطفیٰ رمدے شامل ہیں۔

سابق نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی سینیٹ انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔انوار الحق کاکڑ صوبہ بلوچستان سے سینیٹ کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔مبصرین کے مطابق انوار الحق کاکڑ کے بلوچستان سے سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے سے لگتا ہے کہ وہ سینیٹ چیئرمین کے عہدے کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما یہ بتا رہے ہیں کے سینیٹ چیئرمین کے عہدے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے اورسینیٹ چیئرمین کے لیے یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ تاہم لگتا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی پر دباؤ پڑا تو وہ اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتی ہے اور ایسا پہلے بھی صادق سنجرانی کے سینیٹ چیئرمین منتخب ہونے کے وقت ہوچکا ہے۔

"
خیال رہے کہ سینیٹ کو پارلیمنٹ کا ایوان بالا یا اپر ہا ؤس کہا جاتا ہے، قومی اسمبلی کا منظور کردہ کوئی بھی قانون یا بل سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد نافذ العمل ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے سینیئر رہنماؤں کو سینیٹ کے ذریعے ایوان میں لاتی ہیں، سینیٹ کو قومی اسمبلی سے زیادہ موثر جبکہ اس میں ہونے والی بحث اور تقاریر کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے پڑھے لکھے، تجربہ کار، آئین و قانون کو سمجھنے والے رہنما سینیٹر منتخب ہوں۔

Back to top button