کیا نواز شریف دوبارہ لندن روانہ ہونے والے ہیں؟


طویل جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس لوٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی خبریں ان دنوں دوبارہ سے

زیر گردش ہیں اور دعوے کیے جا رہے ہیں کہ نواز شرہف جلد ہی لندن واپس چلے جائیں گئے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان افواہوںکو اس وقت زیادہ تقویت ملی جب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ نواز شریف کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ ذمہ داریاں لینے پر تیار نہیں ہیں۔ جس کے بعد سابق وزیراعظم کی لندن واپسی کی خبروں میں تیزی نظر آئی جبکہ دوسری مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے ساتھ ان کے صاحبزادے حسن نواز، حسین نواز اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بھی سعودی عرب جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ نواز شریف کا عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد لندن جانے کا امکان ہے، سابق وزیراعظم لندن میں اپنا چیک اپ کروائیں گے، قائد ن لیگ لندن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد دوبارہ پاکستان پہنچیں گے۔دوسری جانب لیگی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بھی عمرے کی سعادت کے لئے رمضان کے آخری عشرے میں سعودی عرب روانگی متوقع ہے۔


مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ کہ نواز شریف ہر سال رمضان المبارک کے آخری 10 دن مدینہ منورہ میں گزراتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ نواز شریف سعودی عرب سے کچھ دنوں کے لیے چیک اپ کی غرض سے لندن چلے جائیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اب دوبارہ لندن میں مقیم ہو جائیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے وہ لندن میں دوبارہ مستقل سکونت اختیار کرینگے، اگر نواز شریف لندن گئے بھی تو صرف علاج کی غرض سے جائیں گے اور پھر پاکستان واپس آ جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں، یہ افواہیں ہیں کہ وہ مستقل طور پر واپس لندن چلے جائیں گے، ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اگر وہ لندن گئے تو چند دن کے لیے جائیں گے، مسلم لیگ ن اور حکومت ان کی مشاورت کے بغیر نہیں چل سکتی، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو ریلیف ملے اور وہ اس کے کے لیے ہی کوشاں ہیں۔ اس لئے وہ جلد پاکستان واپس آ جائیں گے۔


لیگی ذرائع کے مطابق، رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نواز شریف سعودی عرب روانہ ہوں گے تو ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز کے علاوہ بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ان کے ہمراہ ہوں گے جہاں یہ خاندان عمرہ کی سعادت حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیں، وفاقی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار بھی نواز شریف کے ساتھ رمضان المبارک کا آخری عشرہ سعودی عرب میں گزاریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کو ڈاکٹرز سے ٹائم مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ عید کے بعد وہ سعودی عرب سے اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ لندن روانہ ہو جائیں اور چیک اپ کے بعد واپس پاکستان آجائیں۔ لیگی ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف کی سعودی عرب روانگی میں تاخیر سینٹ الیکشن اور حسن نواز کے سسر کی بیماری کی وجہ سے ہو رہی ہے، اگر وہ آخری عشرے میں سعودی عرب نہ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے پیچھے یہ ہی 2 وجوہات ہوں گی۔


واضح رہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر 2023ء کو لندن سے پاکستان واپس آئے تھے، ان کا لاہور کے مینار پاکستان گراؤنڈ میں والہانہ استقبال کیا گیا۔ بعد ازاں، نواز شریف انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ 8 فروری کو عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی مگر نواز شریف جو سادہ اکثریت چاہتے تھے، وہ انہیں نہ مل سکی۔ اتحادی حکومت کو بنتا دیکھ کر نواز شریف نے خود کو وزیراعظم کی دوڑ سے باہر کرلیا اور اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم جبکہ بیٹی مریم نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے نامزد کیا۔ نواز شریف اب اپنی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صوبائی امور میں معاونت کر رہے ہیں۔

Back to top button