حکومت کی قید میں میر شکیل بھی کرونا وائرس کا شکار

پاکستان کے سب سے بڑے صحافتی ادارے ‘جنگ گروپ’ کے مالک میر شکیل الرحمٰن بھی دوران قید کرونا وائرس کا شکار ہوگے ہیں جس کی تصدیق ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہوئی ہے۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان پاکستانی سیاست اور صحافت سے تعلق رکھنے والے جس شخص کے بھی خلاف ہوتے ہیں وہ یا تو نیب کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا ہے یا اس کو کرونا وائرس پکڑ لیتا ہے لیکن زیادہ بدقسمت وہ لوگ ہیں جو پہلے نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں اور پھر کرونا وائرس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میر شکیل الرحمان بھی ان بدقسمت ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔
میر شکیل الرحمان کے خاندانی ذرائع کے مطابق چند روز پہلے ان کی طبیعت خراب ہوئی تو سرکاری طور پر ان کا کرونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا گیا چونکہ تمام علامات کرونا وائرس کی تھیں۔ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اب ان کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال میں ایک علیحدہ کمرے میں سیلف آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ میر شکیل الرحمان پہلے نیب کی زیر حراست تھے اور اب وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ میر شکیل الرحمان کے خاندانی ذرائع نے ان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کو دورانِ قید صحت مند ماحول مہیا کیا جاتا تو وہ کبھی بھی اس جان لیوا بیماری کا شکار نہ ہوتے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ساڑھے تین ماہ سے ایک پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں زیر حراست میر شکیل کے خلاف اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے میر شکیل الرحمٰن کو 12 مارچ کو اُس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ سوال جواب کے لیے نیب لاہور کے دفتر بلائے گئے تھے۔ صحافتی حلقے میر شکیل الرحمٰن کی طویل عرصے سے گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
‘جنگ گروپ’ سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو حکومت کی ناقص پالیسیوں کا پردہ فاش کرنے پر جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے اور انکی گرفتاری کا اصل مقصد وزیراعظم عمران خان کی جھوٹی انا کی تسکین کرنا ہے۔
صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ مؤقف ہے کہ پاکستان میں جو بھی ادارہ یا شخص ریاستی یا حکومتی بیانیے سے ہٹ کر سچ سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ملکوں میں ہوتا ہے جہاں آزادیٔ اظہارِ رائے پر پابندیوں کی شکایات عام ہیں۔
صحافیوں کی عالمی تنظیم ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ کی جانب سے 2020 میں جاری کیے گئے ‘پریس فریڈم انڈیکس’ میں پاکستان کا 145 واں نمبر ہے۔ تنظیم کا کہنا یے کہ ‘جیو نیوز’ کے آزادانہ پالیسی والے کچھ پروگرام حکومت کو پسند نہیں تھے۔ لہذٰا میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کر کے اُنہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس سے قبل بھی ‘جیو نیوز’ اور جنگ اخبار سمیت مختلف صحافتی ادارے سنسر شپ کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ساتھ وابستہ سینئر صحافی حسین نقی کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کبھی بھی آزاد نہیں رہا۔ اُن کے بقول میڈیا کے خلاف اقدامات کا آغاز 1948 میں قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی ہو گیا تھا۔ لاہور اور کراچی سمیت مختلف شہروں سے شائع ہونے والے اخبار بند کر دیے گئے تھے۔
سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے بقول پاکستان میں ہر حکومت میڈیا کو آزادی دینے کے دعوے کرتی ہے لیکن بعد میں اسی کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسکے لیے صرف حکومتوں یا اداروں کو ہی الزام دینا مناسب نہیں۔ پاکستان میں میڈیا نے خود بھی اپنا نقصان کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کوئی میڈیا گروپ ریاستی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کا حریف میڈیا گروپس بھی اسے نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیتے۔ ان کے بقول میر شکیل الرحمٰن کی حراست کے معاملے پر بھی ‘جیو ٹی وی’ کے مخالف میڈیا ہاؤسز نے اُنہیں ٹرائل سے قبل ہی قصوروار ٹھہرا دیا جس سے پاکستان میں میڈیا اداروں میں پائی جانے والی تقسیم بھی واضح ہوتی ہے۔
‘ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان’ کے حارث خلیق کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری درحقیقت پاکستان میں اظہار رائے پر قدغن کی ایک اور مثال ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس پر کوئی رائے نہیں دی جا سکتی کہ میر شکیل الرحمٰن کے مالی یا کاروباری معاملات کس حد تک درست ہیں۔ لیکن ان کی گرفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے مقتدر حلقوں یا حکومتوں کو پسند نہ آنے والی ہر آواز دبانے کی کوشش کی جائے گی۔ حارث خلیق کے بقول نیب کے جو بھی معاملات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ اگر یہ 34 سال پرانا کیس ہے تو پھر اس کے شواہد جمع کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی ملک اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے جتنی کہ اس کی صحافت مضبوط ہوتی ہے۔ اسے لیے صحافت کو ریاست کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنا ہی ستون گرا دیں گے تو ریاست عدم توازن کا شکار ہو گی۔ لہذٰا ریاست کی بقا کے لیے میڈیا کی آزادی ضروری ہے۔
پاکستان میں میڈیا پر ریسرچ کرنے والے ادارے ‘میڈیا میٹرز فار ڈیمو کریسی’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسد بیگ کہتے ہیں کہ کیس بنانے سے قبل کسی کو بھی گرفتار کر لینا نیب کا معمول بن چکا ہے۔ اُن کے بقول پہلے یہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا تھا اور اب یہ میڈیا کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ اسد بیگ کہتے ہیں کہ عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل بارہا میر شکیل الرحمٰن اور جیو کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے رہے ہیں۔جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو وقتاً فوقتاً میر شکیل الرحمٰن اور جیو کو اُن کے بقول نواز شریف کا ساتھ دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ لہذٰا یہ گرفتاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دوسری طرف سینئر قانون دان اکرم شیخ کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمٰن پر بظاہر یہ الزام ہے کہ اُنہیں پلاٹ کا ایک بڑا قطعہ ایک ساتھ الاٹ کیا گیا۔ یعنی ایک ترتیب میں اُنہیں پلاٹ الاٹ کیے گئے جو نیب کے بقول اُس وقت کی حکومت نے اُنہیں بطور رشوت دیے۔
خیال رہے کہ نیب نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی اس کیس میں طلب کیا تھا جب کہ حاضر نہ ہونے پر اُن کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ اکرم شیخ کے بقول اگر نیب کو اس معاملے میں کوئی شبہ ہے تو میر شکیل الرحمٰن سے کاغذات یا متعلقہ ریکارڈ طلب کرے۔ اگر نیب مطمئن نہ ہو تو اُنہیں دوبارہ نوٹس دیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ انکوائری کے مرحلے پر ہی کسی کو گرفتار کر لیا جائے یہ غیر آئینی اقدام ہے۔
