کیا ڈاکٹر قدیر خان کو آزادی نہ دینے پر حکومت اور عدلیہ ایک ہیں؟


سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود حکومت پاکستان نیوکلئیر سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کے گھر تک ہی محدود رکھا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سپریم کورٹ میں دو مرتبہ پیش ہونے کے باوجود عدالت عظمیٰ نے بھی حکومت کو انکی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے کے حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی جس کی وجہ مقتدر اداروں کا دباؤ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اپنی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم نہ کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان 23 جون 2020 کو دوبارہ سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے اور استدعا کی کہ انھیں قید میں رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور حکومت ان کی نقل وحرکت پر عائد پابندیاں ختم نہ کر کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ڈاکٹر قدیر پر عائد پابندیوں کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے دوبارہ اٹارنی جنرل خالد جاوید کو ان سے ملاقات کرکے معاملے کا حل نکالنے کا حکم دیا ہے۔ ڈاکٹر قدیر کی درخواست کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جس کے دوران جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بہتر یہ ہو گا کہ حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ بیٹھ جائے اور انکو جو بھی سہولیات چاہیئں وہ انکو فراہم کی جایئں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ذی الشعور شخص ہیں اور حکومت ان سے بات کرے گی تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت سے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان قومی ہیرو ہیں ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے عدالت کو تجویز دی کہ دونوں فریقین کا موقف ان چیمبر سن لیا جائے۔ اس بات پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے جواب دیا کہ چیمبر میں ان کیمرہ کارروائی مناسب نہیں ہو گی۔بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ‘ڈاکٹر صاحب کچھ رعایت چاہتے ہوں گے، حکومت ان سے بات کرلے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ حکومت کی کچھ حدود ہیں، ڈاکٹر صاحب کو ان کو دیکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر قدیر خان کے وکیل توفیق آصف نے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر کہتے ہیں کہ ان کو رشتہ داروں اور عزیز اقارب سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ اس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ وکلا کی ڈاکٹر قدیر سے ملاقات کروائی جائے اور سماعت کو تین ہفتے تک ملتوی کردیا۔
واضح رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر قدیر پر نیوکلیئر ٹیکنالوجی بیچنے کے الزام کے بعد امریکی دباؤ میں آکر انہیں گھر میں نظر بند کر دیا تھا اور وہ آج 20 برس بعد بھی زیر حراست ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ اب جبکہ میں 84 سال سے زیادہ عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے میں اپنے ملک میں ہی ہوں تم مجھ پر پابندیوں کی کوئی وجہ باقی نہیں بچتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں جان دے دوں گا لیکن کبھی ملک سے غداری نہیں کروں گا۔ میری صرف اتنی سی خواہش ہے کہ میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزار سکوں۔.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button