PTM سے مذاکرات ،حکومت جھوٹا کیس واپس لینے پر راضی


پشتون تحفظ موومنٹ کی مرکزی قیادت نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کے لیے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کامیاب بنانے کے لیے پی ٹی ایم کی قیادت کے خلاف درج خاڑکمر چیک پوسٹ حملہ کیس واپس لیا جائے۔
یاد رہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے خاڑ کمر چیک پوسٹ حملے کی ذمہ داری پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ پر عائد کی تھی۔ پی ٹی ایم کا مؤقف تھا کہ ان کے پرامن احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے آرمی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پی ٹی ایم کے تین ورکرز ہلاک ہوگئے تھے اور قتل کا کیس بھی محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے مرنے والوں کو مالی معاوضہ ادا کیا گیا تھا۔ چنانچہ پی ٹی ایم قیادت نے حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کے کیے اس جھوٹے کیس کی واپسی کی شرط رکھی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے خیبر پخونخوا کی صوبائی حکومت نے اس مطالبے کے بعد شمالی وزیرستان کے علاقے خڑقمر میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف دائر مقدمے سے دستبردار ہونے کےلیے عملی اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں حکومت نے کیس سے دستبردار ہونے کی درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایبٹ آباد میں ہورہی ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ درخواست ریاست کی جانب سے ضلع بنوں کے پبلک پراسکیوٹر اور اے ٹی سی بنوں کے سینئر پبلک پراسکیوٹر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں لکھا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق حکومت موجودہ صورت حال کے تناظر میں اس کیس کی پروسکیوشن سے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عدالت کے ایک عہدیدار نے یہ تصدیق بھی کی کہ مذکورہ درخواست دائر ہوچکی ہے تاہم ابھی تک عدالت کی جانب سے درخواست کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں محسن داوڑ اور علی وزیر کے وکیل عبداللطیف نے بھی اس اقدام کی تصدیق کی لیکن کہا کہ ان کے موکلوں کو حکومت کی جانب سے دائر درخواست کی کاپی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ خاڑکمر حملہ کیس سے دستبرداری کا اقدام پی ٹی ایم کی جانب سے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اعتماد سازی کے اقدامات کا سنجیدگی سے مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا تھا کہ حکومت اعتماد کی کمی کو پورا کرنے کےلیے لازمی اقدامات اٹھائے اور یہ فریقین کےلیے ضروری ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ 26 مئی 2019 کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خڑکمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا، جس کے بارے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کےلیے دباؤ ڈالنا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا۔
پاک فوج کے مطابق چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ بعد ازاں دونوں اراکین اسمبلی کو گرفتار کرکے بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ہاتھوں گرفتار اراکین اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ 10 جون کو خیبر پختونخوا کے اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی نااہلی کےلیے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ بعد ازاں 13 جون کو محسن داوڑ اور علی وزیر نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت کےلیے درخواست دائر کی تھی۔ جس کے بعد 18 ستمبر کو پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ نےعلی وزیر اور محسن داوڑ کی مشروط ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا اور انہیں 21 ستمبر کو خیبر پختونخوا کی ہری پور جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button