عمران خان وزارت عظمیٰ کیلئے واحد آپشن نہیں ہیں

بلوچستان کے سابق وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی نے سردار اختر مینگل کی جانب سے عمران حکومت کی حمایت ختم کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت عظمی کے لیے صرف عمران خان ہی واحد آپشن نہیں ہیں، ان کے علاوہ بھی ملک میں بہت سے آپشنز موجود ہیں۔
ایک انٹرویو میں نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ ایک سروے میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت گر گئی ہے۔ عمران خان کی جماعت پہلے کون سی مقبول تھی جو اب ان کی مقبولیت کر گئی ہے۔ تحریک انصاف پہلے بھی تو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی۔’ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بڑے بڑے دعوے کیے مگر سب دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی تھے۔ اب تبدیلی کی باتیں چل رہی ہیں اور عمران خان خود بھی کہتے ہیں کہ وہ چھ ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتے۔
نواب اسلم رئیسانی کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاسی صورت حال غیر متوقع ہوتی ہے۔ یہاں کی سیاست کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ پتا نہیں عمران خان کو لانے والے کیا سوچ رہے ہیں۔ فیڈریشن ضد اور طاقت سے نہیں چلے گی۔’
سابق وزیرِاعلٰی بلوچستان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے سردار اختر مینگل نے اچھا فیصلہ کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کرنا سردار اختر مینگل کی غلطی نہیں تھی۔’انہوں نے اچھا کیا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ چھ نکاتی معاہدہ کیا۔ اب کم از کم دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ عمران خان اور ان کو لانے والوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
نواب اسلم رئیسانی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘جام کمال کو اس بات پر فخر ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ میں 40 واٹس ایپ گروپس کا ایڈمن ہوں اور وہ ٹوئٹر پر بھی گلابی انگریزی لکھتے ہیں۔’ انہوں نے کہا کہ ‘جام صاحب کی حکومت میں آئے روز کوئی وزیر ناراض ہو رہا ہے، کوئی وزیر انہیں چھوڑ رہا ہے، پھر یہ ان کو منانے جا رہے ہیں یا کسی کو دھمکیوں کے ذریعے روک رہے ہیں۔’
سابق وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ جام حکومت اور ان کے پیچھے بیٹھنے والے افراد ہمارے قبائلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے قبائل کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے بھائی سراج رئیسانی کو لڑانے کی کوشش کی گئی جو کہ قابل مذمت فعل ہے۔ یہ جو حکومت ہے یہ کسی اور کے کہنے پر یہاں کے حالات خراب کر رہی ہے۔’
نواب اسلم رئیسانی نے آصف زرداری سے اختلافات کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2008 کے انتخابات کے بعد وہ کسی اور کو وزیراعلٰی بلوچستان بنانا چاہتے تھے لیکن اللہ کی مہربانی ہوئی اور میں وزیر اعلیٰ بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے ہی آصف زرداری انہیں پسند نہیں کرتے تھے۔ وزیراعلٰی بننے کے بعد اسلام آباد سے تقرر و تبادلے ہوتے تھے جن کو میں نے بند کرا دیا تھا۔ ‘پھر ریکوڈک کا مسئلہ آیا، اس معاملے پر میں جس طرح ڈیل کر رہا تھا وہ بھی آصف علی زرداری کو پسند نہیں تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ ریکوڈک نہ میرا ہے، نہ آپ کا ہے، یہ تو جو لوگ وہاں آباد ہیں، اس خطے میں آباد ہیں یہ تو ان کی ملکیت ہے۔ یہ تو بلوچوں کے علاقے میں ہے یہ تو بلوچوں کو ملنا چاہیے۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ لگتا یہی ہے کہ ن لیگ نے ڈیل کر رکھی ہے۔ مسلم لیگ ن بڑی جماعت ہے، بڑی جماعتوں کو دیکھنا چاہیے کہ جب ان کی حکومت ہو تو وہ سوچیں کہ اپنے لوگوں کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ جلا وطن بلوچ قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات سے متعلق نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ یہ بات چیت کیوں کامیاب نہیں ہو سکی انہیں علم نہیں، وہ مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ لیکن حق سچ کی بات یہ ہے کہ بلوچوں کے ساتھ زیادتی بند ہونی چاہیے اور ان کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہیں۔
