فردوس عاشق کن سازشیوں کو بے نقاب کرنے والی ہیں؟


مبینہ کرپشن اور اقرباء پروری کے الزامات پر حکومتی ترجمان اور معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے فارغ ہونے والی بونگی آنٹی فردوس عاشق اعوان نے اپنی خاموش رہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ایک سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا۔ تاہم انھوں نے عمران خان کے حکم کی وجہ سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وہ سازشی عناصر سے آگاہ ہیں اور جلد انھیں بے نقاب کریں گی۔
تاہم دوسری طرف فردوس عاشق اعوان کے قریبی رفقاء کا دعویٰ ہے کہ انھیں خاموش رہنے پر کسی اور عہدے پر تعیناتی کی امید دلائی گئی تھی اسی وجہ سے وہ میڈیا سے بالکل آؤٹ ہیں۔ لیکن حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اس وجہ سے بھی خاموش ہیں کہ اگر وہ بولیں تو پھر ان کی مبینہ کرپشن کا کیس کھلنے کا بھی خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوش عاشق اعوان کو اپریل میں انکے عہدے سے بدعنوانی اور بے ضابطگی کے الزامات پر فارغ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے چند دن تک تو میڈیا پر اپنا کیس کسی حد تک لڑا اور اپنے خلاف سازش کو بے نقاب کرنے کا وعدہ بھی کیا مگر بعد ازاں ان کی طرف سے ایسا سکوت طاری ہوا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا۔ چینلز کے رابطہ کرنے پر ان کی طرف سے مصروفیات کا بہانہ بنایا گیا اور میڈیا پر آنے سے گریز کیا گیا۔ بالآخر میڈیا کو ان کی طرف سے کالزاور میسجز کا جواب آنا بھی بند ہو گیا اور فردوس بالکل غائب ہو گیئں۔ فردوس عاشق اعوان کی خاموشی پر ان کے قریبی ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بشرط خاموشی دوبارہ کسی عہدے پر تعیناتی کی امید دلائی گئی ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم دھیمے مزاج کے موجودہ وزیر اطلاعات شبلی فراز کے بجائے اپنی طرح جارحانہ مزاج کی حامل فردوس عاشق اعوان کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن تھے۔ اسی لئے فردوس واپسی کی امید میں اپنے لب سئے ہوئے ہیں۔
تاہم اب ڈاکٹر فردوس اعوان کی ان کے اپنے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ مختلف سوالوں کے جوابات دیتی نظر آرہی ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے اپنے یوٹیوب چینل پر افتتاحی ویڈیو لانچ کی ہے جس میں وہ اپنی خاموشی کی وجہ کو وزیراعظم کا حکم قرار دے رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ یوٹیوب پر اپنے خلاف ہونے والی سازش سے پردہ اٹھائیں گی۔
یادر ہے کہ فردوس اعوان نے اپنی برطرفی کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں الزام لگایا تھا کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ مجھ سے استعفیٰ لینے کے مجاز نہیں، جس کے بعد تلخی بڑھ گئی اور انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کی دھمکی دی گئی اور پھر ایسا کر بھی دیا گیا۔‘
اپنے ویڈیو پیغام میں فردوس کا کہنا تھا کہ وہ افراد جنہوں نے ان کے مؤقف سے اختلاف کیا، ان سے بھی انہیں کوئی شکوہ نہیں کیونکہ ان کے پاس دستیاب حقائق اور اطلاعات کا فقدان تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک سال کی انتھک محنت، مسلسل کوشش اور جدوجہد کے بعد جب مجھے اس عہدے سے ہٹایا گیا تو مؤقف دینا، حقائق بیان کرنا اور آپ کو حقائق سے آگاہ کرنا میرا حق بھی تھا اور ذمہ داری بھی تھی۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے مجھے حکم دیا کہ میں لو پروفائل رہوں۔ اپنے لیڈر کی ہدایت کی وجہ سے میں مؤقف دینے سے قاصر رہی۔ تاہم اپنی ویڈیو میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے یو ٹیوب چینل کے ذریعے بتائیں گی کہ پی ٹی آئی حکومت میں ایک سال حکومتی ترجمان کی حیثیت سے انہوں نے کن کن سازشوں کا سامنا کیا اور کون کون سی سازشیوں کو شکست دی اور آخر کار وہ خود کس سازش کا شکار ہوئیں۔ تاحال ان کے چینل سبسکرائبرز کو ان کی اگلی ویڈیو کا انتظار ہے۔ تاہم لگتا یہی ہے کہ ان کی اس حوالے سے دوسری ویڈیو نہیں آئے گی کیونکہ اقتدار کا نشہ بہت برا ہوتا ہے اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو یقین محکم ہے کہ اگر انھوں نے سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے کے نام پر کوئی اور بونگی مار دی تو ان کو دوبارہ کرسی ملنے کی تھوڑی بہت امید بھی ختم ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button