خاتون SSP اور SP کس ایکٹرس کی رول ماڈلز ہیں؟

حال ہی میں نشر ہونے والی منی ڈرامہ سیریل ”گناہ“ نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایکٹرس رابعہ بٹ کی، بطور ایس ایچ او صبیحہ، حقیقت سے قریب تر شاندار پرفارمنس کو قرار دیا جا رہا یے۔ یوں تو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں آج کل چند دبنگ پولیس والیوں کی کافی چرچا ہو رہی ہے لیکن ڈرامہ دیکھنے والوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ دراز قد، سمارٹ اور حسین چہرے شوبز میں ہوں تو عام سی بات ہے لیکن اگر پولیس میں جسمانی لحاظ سے ہی نہیں، ذہنی اعتبار سے بھی سمارٹ اور اپنے پروفیشن سے وفادار، دو چار آفیسرز اور بھرتی ہو گئیں تو ملک میں جرائم کی شرح میں کمی یقینی ہے۔ مثلاً اے ایس پی سیدہ شہر بانو اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انوش مسعود، ڈرامہ ”گناہ“ میں ایس ایچ او کا کردار نبھانے والی رابعہ بٹ کی ضرور رول ماڈل رہی ہوں گی۔ رابعہ ڈرامے میں ایک بڑے کیس کی اتنی مہارت اور باریک بینی سے تحقیقات کرتی ہیں کہ انتہائی اثرورسوخ کا حامل مجرم خود اپنے ہی شکنجے میں پھنس جاتا ہے۔
اسی طرح لاہور کے علاقے گلبرگ میں تعینات اے ایس پی شہر بانو بھی اپنے پروفیشن سے بہت مخلص ہیں، شہربانو کی کوششوں سے پولیس کے ریٹائرڈ کتوں کو ہلاک کرنے کی بجائے اب انھیں نہ صرف تعریفی سرٹیفکیٹس دیئے جاتے ہیں بلکہ جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والی ایک آرگنائزیشن کے ذریعے انھیں جانور پالنے کے شوقین لوگوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ دراصل رواں برس کے آغاز میں قذافی سٹیڈیم میں منعقدہ پی ایس ایل کے میچز میں شہربانو بھی ڈیوٹی پر تھیں۔ ان کے ساتھ سراغ رساں کتے بھی ہوتے جو بقول ان کے، دوپہر دو بجے سب سے پہلے سٹیڈیم میں داخل ہوتے اور رات تین بجے سب سے آخر میں وہاں سے نکلتے۔ اس دوران ایک کتے کو پیار کرتے ہوئے انھوں نے دیکھا کہ اس کے ناخن اور بال بہت گندے تھے جس پر کتے کے کیئر ٹیکر نے بتایا کہ اب اسے صاف ستھرا رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ریٹائر ہونے والا ہے جس کے بعد اسے زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا جائے گا۔ شہربانو نے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور سے قواعد میں تبدیلی کی درخواست کی اور ان کے تعاون سے ان بے زبانوں کی جان بچانے میں کامیاب ہو گیئں۔
دوسری طرف ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انوش مسعود بھی فرض شناسی اور پیچیدہ کیسز کی کامیابی سے چھان بین کرنے میں شہرت رکھتی ہیں۔ وہ بچپن میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں لیکن انھیں پولیس اور فوج کا یونیفارم بھی بہت پُرکشش لگتا تھا یعنی دونوں پیشے اس لئے بھی ڈاکٹر انوشے کے دل سے بہت قریب تھے کہ ڈاکٹرز کی طرح پولیس والے بھی دن رات انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے میڈیکل میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے کی بجائے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر یہاں کے لوگوں کی پریشانیاں اور مشکلات کم کرنے میں ان کی مدد کریں گی۔ انوشے کے خیال میں دیکھا جائے تو یہ پروفیشن کافی چیلنجنگ بھی ہے لیکن اگر آپ مجبور اور بےبس لوگوں کو انصاف دے سکیں تو اس سے بہتر پروفیشن اور کون سا ہو گا؟
خیر ”گناہ“ میں رابعہ بٹ ہی نہیں ہیں بلکہ یہ کئی حوالوں سے انتہائی پُراثر ڈرامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈرامے کی ڈائریکشن بھی بہت مضبوط ہے اور یہ تکنیکی اعتبار سے بھی جدیدیت کا حامل ہے۔ ڈرامے میں سرمد کھوسٹ، صبا قمر اور رابعہ بٹ کی جاندار اداکاری کو بھی بے حد سراہا جا رہا ہے جیسے یہ فنکار نہیں، جیتے جاگتے کردار ہوں۔۔البتہ کہانی جتنی بولڈ اور منفرد ہے اسے گھمانے کی بجائے سیدھے سبھاؤ میں پیش کیا جاتا تو بہتر ہوتا!!
