خراسانی 100 طالبان کی رہائی کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہوئے


ماضی میں پاکستانی ریاست کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کو سختی سے رد کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ایک خونخوار بانی کمانڈر عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ وہ حکومت پاکستان کیساتھ مذاکرات پر اس لیے آمادہ ہوئے تا کہ وہ اپنے زیر حراست 100 سے زائد گرفتار ساتھیوں کو رہائی دلا سکیں۔
ماضی میں پاک فوج کے جوانوں کی گردنیں کاٹ کر ان کے سر سے فٹبال کھیلنے والے تحریک طالبان کی مہمند شاخ کے سربراہ عبدالولی مہمند عرف کمانڈر عمر خالد خراسانی نے ہمیشہ پاکستانی ریاست کے ساتھ مذاکرات کی دعوت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ریاست پاکستان سے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جنگ لڑنے والے سب سے بڑے شدت پسند گروہ، ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان کے ساتھ حال ہی میں ایک ماہ کی جنگ بندی اور مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے ریاست پاکستان طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے 85 ہزار پاکستانیوں کے خون کا سودا کر رہی ہے۔
دوسری جانب 2013 میں حکومت پاکستان کے ساتھ طالبان کی جانب سے شروع کیے گئے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے کمانڈر عمر خالد خراسانی کا ذہن اب بدل چکا ہے اور وہ مذاکراتی عمل کا حصہ بن چکے ہیں۔ عمر خالد خراسانی نے 2013 میں کہا تھا کہ اگر حکومت واقعی نتیجہ خیز مذاکرات چاہتی ہے تو سب سے پہلے پاکستان میں قید طالبان قیدیوں کو رہا کرے۔ اگر موجودہ صورت حال کو بھی دیکھا جائے تو اب ہونے والے مذاکرات میں بھی قیدیوں کی رہائی طالبان کی طرف سے اولین شرط ہے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستانی ریاست نے معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث سزائیں پانے والے کئی درجن طالبان کمانڈرز کی رہائی پر اتفاق کرلیا ہے جس کے بعد ایک مہینے کی جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔ خیال رہے کہ ماضی میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران ’احرار الہند‘ نامی ایک گمنام تنظیم نے پاکستان میں کئی بڑے خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن کا اصل منصوبہ ساز عمر خالد خراسانی کو ہی گردانا جاتا تھا اور پاکستانی حکام کا دعویٰ تھا کہ خراسانی اس نوعیت کی کارروائیاں کر کے پاکستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے امن مذاکرات کو آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے۔
بعد میں عمر خالد خراسانی نے تحریک طالبان سے الگ ہو کر ’جماعت الاحرار‘ نامی اپنی الگ تنظیم کا بھی اعلان کیا مگر گذشتہ برس یہ تنظیم دوبارہ تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہو گئی تھی۔ جب حالیہ مذاکرات پر عمر خالد خراسانی کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ اور دیگر تمام قیادت کی طرح جاری مذاکرات کی مشروط حمایت کرتے ہیں۔ تاہم ساتھ ساتھ انھوں نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے مطالبات ماننے کی صورت ہی میں ان مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے، جس میں اب بھی سرفہرست مطالبہ تحریک طالبان پاکستان کے قید ساتھیوں کی رہائی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو پہلے مرحلے میں رہائی کے لیے 102 افراد کی فہرست بھی دی گئی تھی۔
عمر خالد خراسانی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اب تک اُن کے قیدیوں کو رہا نہیں کیا اور اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہی وہ وجہ ہے کہ عمر خالد خراسانی سنہ 2013 کی طرح اب بھی حکومتِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے پوری طرح مطمئن نظر نہیں آ رہے ہیں۔ خراسانی نے بتایا کہ اُن کی سمجھ کے مطابق حکومت پاکستان ماضی کی طرح امن کے قیام کے بجائے اس بار بھی مذاکرات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اُن کے خیال میں شاید تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ان مذاکرات میں عدم شمولیت کو جواز بنا کر حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغان طالبان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھی، اس لیے وہ اِن مذاکرات پر تیار ہو گئے۔
بظاہر خراسانی افغان طالبان کے عالمی برادری کے ساتھ اس وعدے کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ جس میں طالبان نے اپنی سرزمین کو کسی بیرونی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اب جب وہاں پاکستان مخالف اس سب سے بڑے شدت پسند گروہ کی موجودگی کے ناقابل تردید شواہد ہیں، جو طالبان کے زیر اقتدار آنے کے بعد بھی پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں تو یقیناً یہ افغان طالبان کے پچھلے سال دوحا امن معاہدہ پر عملدرآمد میں ناکامی تصور کی جا سکتی ہے۔ یہ بات امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے بھی اندیشے کا سبب بن سکتی ہے کہ طالبان کی ایسی کوئی دوسری ناکامی یا نرمی شاید ان کی اندرونی سکیورٹی کے لیے مستقبل میں خطرہ نہ بن جائے۔ افغان طالبان کے سیاسی اور جہادی مخالفین طالبان حکومت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ شاید ان کے دباؤ نے تحریک طالبان پاکستان کو حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا ہے۔

Back to top button