خفیہ والوں نے ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ کیوں کروایا؟

19 اپریل 2014 کو کراچی میں سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے پورے سات برس بعد 20 اپریل 2022 کو اسلام آباد میں سنیئر صحافی ابصار عالم ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ تاہم حامد میر کی طرح گولی لگنے کے باوجود ابصار عالم کی جان بھی بچ گئی کیونکہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہے۔
یاد رہے کے حامد میر کو چھ گولیاں ماری گئی تھیں لیکن شدید زخمی ہونے کے باوجود معجزانہ طور پر ان کی جان بچ گئی تھی۔ اس حملے کے بعد حامد میر کے خاندان کی جانب سے تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اس الزام کی پاداش میں تب کی نواز حکومت نے جیو ٹی وی کو تین ماہ کے لیے آف ائیر کر دیا تھا۔ تاہم 2014 میں حامد میر پر قاتلانہ حملے سے میڈیا کو ہراساں کرنے اور غلام بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ اب تیز تر ہو چکا ہے اور ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ اس حملے کو حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کے لئے طاقتور خفیہ ایجنسی کی ایک وارننگ قرار دے رہے ہیں۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن ریاستی اداروں نے پاکستانی میڈیا کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، انہوں نے ہی ابصار عالم کو تختہ مشق بناتے ہوئے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کے پیچھے اسی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے، جس نے 2014 میں اپریل ہی کے مہینے میں حامد میر پر کراچی میں جان لیوا حملہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ خود پر 20 اپریل کے قاتلانہ حملے سے دو روز پہلے ابصار عالم نے ایک ٹویٹ میں فیض آباد دھرنا کیس میں اپنی بطور چیئرمین پیمرا آئی ایس چیف جنرل فیض حمیدکے ساتھ ہونے والی گفتگو کے مندرجات شیئر کئے تھے۔
ابصار عالم نے حملے میں زخمی ہونے کے فوری بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جن لوگوں نے مجھ پر حملہ کروایا ہے میں انہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میں حوصلہ نہیں ہاروں گا اور نہ ہی میں ان چیزوں سے ڈرنے والا ہوں۔ ابصار عالم گذشتہ 27 برس سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں اور تحریک انصاف حکومت اور اس کی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے ٹویٹس میں اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاست میں مداخلت پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے 18 اپریل کو اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا کہ نومبر 2018 میں جب میں چیئرمین پیمرا تھا، تو چینل 92 کو نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی میں لائیو سیکورٹی آپریشن دکھانے پر بند کر دیا تھا۔ اس پر جنرل فیض نے مُجھے فون کر کے کہا کہ یا تو چینل 92 کو کھول دیں یا باقی سب چینلز بھی بند کر دیں۔ میں نے کہا دونوں کام نہیں ہو سکتے، کُچھ ہی دیر بعد وفاقی حکومت نے اپنے اختیار کے تحت تمام چینلز بند کرنے کا حُکم نامہ بھیج دیا۔ابصار نے لکھا کہ کیا کوئی پوچھے گا جنرل فیض سے کہ وہ کونسے مفاد تھا جو آگ لگانے اور بھڑکانے والے چینل 92 کو اس وقت کھلوانا چاہتے تھے؟ انہوں نے لکھا کہ اب آپکو سمجھ آیا کہ چینلز اور اینکرز کیسے چلتے اور بند ہوتے ہیں؟
ابصار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تب سے ہی انہیں اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے نے ابصار عالم کے خلاف ریاست مخالف بیانات دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں طلبی کا سمن بھیج دیا تھا جس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پنجاب پولیس نے ابصار عالم کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بھی درج کیا تھا جو پچھلے برس خارج کر دیا گیا تھا۔
20 اپریل کی شام ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ اسوقت یہ واقعہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کے طور پر چل رہا ہے۔ اس معاملے پر خود ایک قاتلانہ حملے کا شکار ہونے والے حامد میر نے کہا ہے کہ یہ حملہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے اور قابل مذمت ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ وه جمہوریت اور سول بالا دستی کے لیے اٹھتی ایک بہادر اور حق پر مبنی آواز ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ صحافت کا گلا گھونٹنے والے ان مجرموں کو فوری طور پر قوم کے سامنے لاکر نشان عبرت بنایا جائے۔ مریم نواز نے بھی حملے کی پرزور مذمت کی اور ابصار عالم کی صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ مخالف کی آوازوں کو چپ کرانا ایک کینسر ہے جس نے کئی عشروں سے اس ملک کو جکڑا ہوا ہے، اور ابصار عالم اس وحشیانہ جرم کا تازہ شکار ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی ابصار عالم پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملہ کرنے والے کو گرفتار کیا جائے اور تحقیقات کرائی جائیں۔ اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے اپنی سٹوری میں لکھا ہے کہ اسلام آباد میں فوج پر تنقید کرنے والے صحافی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے اور اس کی یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ٹوئٹر پر انکشاف کیا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے 2017 میں فیض آباد کے مقام پر تحریک کے دھرنے کے دوران ان پر بحیثیت پیمرا چیئرمین ن لیگ کی حکومت کے خلاف میڈیا پر مخالفانہ مہم چلوانے کے لئے دبائو ڈالا گیا تھا۔
لیکن ابصار اس سے پہلے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے حوالے سے تنقیدی ٹوئیٹس کرتے رہتے ہیں۔ ان کی ایسی ہی ٹویٹس کو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ابصار کو نشانہ بنانے والا بے نقاب ہو چکا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ عمران کے نئے پاکستان میں یہ تاثر عام ہےکہ جو بھی صحافی سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے اسے ریاستی ایجنسیوں کے نشانے پر رکھ لیا جاتا ہے، اور ابصار عالم پر حملہ اس کی تازہ مثال ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں میڈیا کو غلام بنانے کہ ایجنڈے پر تندہی سے عمل کیا گیا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی بتاتی ہیں کہ کپتان سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد سے غیر اعلانیہ سنسر شپ کا شکار پاکستانی میڈیا آزادی اظہار رائے کے حوالے سے شدید ریاستی جبر کا شکار ہے اور آزادی اظہار کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔ پاکستان میں صحافتی آزادیوں اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آزادی اظہار کے معاملے پر 100 میں سے صرف 30 نمبر حاصل کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میڈیا سے تعلق رکھنے والے آٹھ پاکستانی صحافی قتل ہوئے، 36 صحافیوں کو کام کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 10 کو حراست میں لیا گیا، اور 23 کے قریب صحافیوں کو رپورٹنگ یا ان کے آن لائن اظہار رائے کے حوالے سے حبس بےجا میں رکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button