خواتین صحافیوں پر جو بیتی اسے سن کر قائمہ کمیٹی سکتے میں

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں گزشتہ کئی ہفتوں سے اقلیتوں کے حقوق کے کمیشن کی حمایت کرنے پر قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
جب کہ خواتین صحافیوں نے کہا ہے کہ انہیں صرف سوشل میڈیا پر ہراساں ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ غدار قرار دے کر قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک کرنے سے کیرئیر داو پر لگ رہا ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری اور خواتین صحافیوں کی جانب سے ان خیالات کا اظہار منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کیا گیا۔
حقوقِ انسانی کے کمیشن نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے کے خلاف خواتین صحافیوں کے بیان کا نوٹس لیتے انہیں اجلاس میں مدعو کیا تھا جہاں انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بارے تفصیلی بیانات ریکارڈ کروائے۔ اجلاس کی صدارت بلاول بھٹو نے کی۔ اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صرف خواتین صحافیوں کو ہی نہیں بلکہ خواتین سیاست دانوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی گالیاں دی جا تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں خواجہ آصف کی جانب سے ایوان میں تضحیک آمیز ریمارکس کے بعد ہراساں کیا گیا۔
شیریں مزاری نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا نام استعمال کرکے ٹرولنگ کی جاتی ہے لیکن تحریک انصاف کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کا معاملہ اٹھایا ہے، سیاسی قیادت کو اپنے کارکنان کو سخت پیغام دینا ہوگا کہ وہ گالم گلوچ بند کر دیں۔ میں اور میری بیٹی اس صورت حال کا روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرتے ہیں اس لیے خواتین صحافیوں کا مسئلہ سمجھ سکتی ہوں۔ شیریں مزاری نے یہ بھی کہا کہ خواتین صحافی ہراساں کرنے والے اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
اس دوران خواتین صحافیوں نے مخصوص ٹویٹس اور واٹس ایپ میسیجز میں دی جانے والی ناقابل اشاعت گالیوں کو دہراتے ہوئے اجلاس کو بتایا کہ کمیٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر یہ سب پڑھتے ہیں اس لیے اب یہاں بھی سنیں تاکہ آپ سب کو اندازہ ہو کہ ہم کس ٹراما سے گزرتے ہیں۔ اینکر غریدہ فاروقی نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے خلاف ایسی کمپئن چلائی کہ میرا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا۔ ہم کسی کا انٹرویو یا خبر لینے کےلیے کسی سے ملاقات نہیں کرسکتے، میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اب تو اتنی گالیاں پڑتی ہیں کہ ان کا ڈر بھی ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر میرے خلاف اتنی مہم چلائی گئی کہ میرے بیٹے کو اسکول میں اس کے کلاس فیلو نے کہا کہ تمہاری ماں نواز شریف سے رشوت لیتی ہے۔
مہمل سرفراز نے اپنے بارے میں کی گئی ٹویٹ پڑھی تو اجلاس میں سراسیمگی چھا گئی اور کمیٹی ارکان واضح طور پر شرمندہ دکھائی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے سندھ کے بارے میں کورونا کی مینجمنٹ کے حوالے سے بات کی تو میرے واٹس ایپ پر مجھے ایک میسیج آیا جو میں پڑھ نہیں سکتی اس لیے میں نے محسن داوڑ سے درخواست کی ہے کہ وہ پڑھ کر سنا دیں۔ محسن داوڑ نے اس میسج کی چند سطریں پڑھی ہی تھیں کہ انہوں نے بھی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید نہیں پڑھ سکتے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے متعدد مرتبہ مہمل سرفراز سے معذرت کی اور کہا ‘ہمارا دین، سیاست، ثقافت ہمیں یہ سب نہیں سکھاتا۔ اگرچہ خواتین صحافیوں نے ایک جماعت کا نام لیا ہے لیکن یہ صورت حال اتنی بگڑ چکی ہے کہ ہم اسے ایک جماعت کی حد محدود نہیں کرسکتے بلکہ معاملہ کمیٹی ارکان کے سامنے رکھیں گے کہ وہ اس پر کیا تجاویز دیتے ہیں۔’
اس موقع پر دیگر خواتین صحافیوں اور اینکر پرسنز نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ ان کےلیے صحافت کو مشکل بنانے کی کوئی ایسی کوشش نہیں جو نہ کی گئی ہو۔ کمیٹی نے تمام خواتین صحافیوں کے بیانات ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے حکام کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر خواتین صحافیوں کو کمیٹی انصاف نہ بھی دلا سکی تو اس معاملے پر عدالت جائیں گے۔
