خواجہ سراؤں کی کٹھن زندگی کا عکاس ڈرامہ سیریل ’’گرو‘‘

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے منفرد سیریل ’’گرو‘‘نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، ہر طرف اس کی بات ہو رہی ہے کیوںکہ ایک منفرد بات تو ہوئی ہے۔
جینڈر کے حوالے سے ہم ابھی تک بات راز میں کرتے ہیں، پردے داری رکھی جاتی ہے، یہاں پہلا پردہ جو اٹھایا گیا ہے سامنے انسان کھڑا نظر آتا ہے، جو احساس بھی رکھتا ہے اور حساس ہے، تیسری جنس، مخنث، خواجہ سرا یا ٹرانس جینڈر کوئی بھی لفظ استعمال کر لیجئے، پہلا تعارف انسان ہی کا ہے جس کی تمام تر جبلتیں فطری ہیں۔
ڈرامے میں اسی نکتے پر روشنی ڈالی گئی ہے، ٹرانس جینڈر بل پاس ہوا تو اس کی بہت مخالفت کی گئی لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے صرف کسی ملک میں آپ کا شناختی کارڈ ہی نہ بن سکے تو آپ کے جینے مرنے کے تمام معمے مسائل بن جاتے ہیں۔ مسائل انسان کو مزید حساس کر دیتے ہیں۔
ڈرامہ ایک چھوٹی سی غریب بستی کی کہانی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے گھروں میں پہلے ہی بڑی بڑی کہانیاں چل رہی ہوتی ہیں لیکن ان بڑی کہانیوں کی بجائے سب کی نظر، نفرت، بغض اس محلے پر ہے جنہیں ہم خواجہ سرا کے نام سے جانتے ہیں۔
ڈراما پہلی ہی قسط میں کہانی کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ پہلے ہی سین میں گرو اور اس کے چیلوں کا سماجی و معاشی پس منظر دکھا دیا جاتا ہے۔ کہانی کی لمبی چوڑی تمہید نہیں باندھی گئی بلکہ سادہ سے دو ٹوک لفظوں میں بتا دیا گیا ہے کہ فاخرہ کے میاں کو اب تیسری بار بیٹی نہیں چاہئے، ورنہ وہ اسے گھرسے نکال دے گا۔ دو جڑواں بچیاں پیدا ہو جاتی ہیں، جن میں سے ایک بچی نرس کے توسط سے گرو کی گود تک آ جاتی ہے۔
گرو نے اس کی ماں کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہا، محلے میں کسی بےاولاد جوڑے کو بھی بچی دے دی لیکن اس عورت کو اولاد سے زیادہ عزیر اپنی سابقہ محبت ہے۔ وہ شوہر کے کام پہ جانے کے بعد اسی پرانے محبوب سے فون پہ گلے شکوے کرنے میں مصروف رہتی ہے، ایسے میں وہ ماں کا منصب کیسے سنبھال سکتی تھی۔
گرو کو مریم یعنی اس بچی سے عشق ہو گیا تھا۔ اس کے عشق کی کیمسٹری فزکس بنی اور وہ روتی بچی کو واپس گھر لے آیا، اس نے اسے پالنے کا، قبول کرنے کا اور ڈاکٹر بنانے کا ارادہ کر لیا۔اس نے ذمہ داری قبول کر لی کہ کوئی بھی انسان ہو بس ایک مضبوط ارادہ ہی کرنا ہوتا ہے اور وہ دنیا کے طوفان جھیلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
کہانی جو ایک ایدھی کے جھولے پہ ختم ہو سکتی تھی، وہ بستیوں کے مکانوں میں کبھی ختم نہیں ہوتی۔ محرومیاں خواب، خواب زندگیاں اور زندگیاں کہانیوں کو جنم دیتی رہتی ہیں، گرو کے چیلوں نے بھی اسے سمجھایا کہ وہ غلط کر رہا ہے مگر ایک انسان جب ٹھان ہی لے تو کر ہی گزرتا ہے۔ وہ مخنث سہی انسان تو ہے۔
ڈراما ایکسپریس ٹی وی سے ہر بدھ کو نشر کیا جا رہا ہے۔ علی رحمٰن خان ہر طرح سے ایک جاندار کردار نبھا رہے ہیں، مصنف کی ذیل میں کسی کے نام کی بجائے صرف ’لکھاری‘ لکھا ہوا ہے۔ لکھاری کی تلاش ایکسپریس کے کونٹینٹ ڈیپارمنٹ تک لے گئی تو معلوم ہوا یہ آئیڈیا علی معین کا تھا۔ علی معین سے رابطہ ہوا تو انہوں ڈرامے اور مصنف کے حوالے سے بتایا کہ ’گروکی کہانی کا جو بین السطور ہے وہ خالصتاً اخلاقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فروری2021 کے دوران میں نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام تھا ’لکھاری۔‘ اس میں یہی خیال تھا کچھ لکھنے والے مل کر کام کریں گے، اب یہ ادارہ نہیں ہے لیکن ہم نے چند پروجیکٹ مل کر لیے اور اچھا تجربہ رہا۔
میرے علاوہ اس میں ابو راشد، ثقلین عباس، سجاد حیدر زیدی تھے جس کا بھی آئیڈیا ہوتا تھا اس پہ مل کر کام کرتے تھے۔
