کیا جذبات کی تسکین کیلئے کھانا صحت کیلئے فائدہ مند ہے؟

مختلف جذباتی کیفیات کے دوران بھرپور کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، کچھ لوگ اپنے ذہنی تنائو، مختلف کیفیات کے دوران کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
تناؤ، اضطراب، بوریت، خوشی اور مسرت جیسے جذبات سے نمٹتے وقت کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں، ایموشنل ایٹنگ پر این ڈی ٹی وی میں شائع مضمون کے مطابق یہ ایک عام مسئلہ ہے جس کا سامنا بہت سے لوگ کرتے ہیں اور یہ ان کی صحت اور تندرستی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ عام طور پر لگنے والی بھوک سے مختلف ہے، جسم کے لیے غذائیت کی ضرورت کے بجائے لوگ نفسیاتی یا جذباتی ضرورت کے لیے مختلف قسم کی خوراک لیتے ہیں، وہ علامات جو اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ آپ ’ایموشنلی ایٹنگ‘ کر رہے ہیں۔
ایموشنل ایٹنگ کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ اس وقت کھاتے ہیں جب آپ کو بھوک نہیں لگتی، ایسے افراد جسم کے لیے خوراک کی ضرورت کے بجائے اپنے جذبات کی ضرورت کو مطمئن کر رہے ہوتے ہیں۔
ایسے افراد کو مخصوص کھانوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے اگر وہ تناؤ محسوس کرتے ہیں تو وہ آئس کریم اور پیزا جیسی خوراک کھانا پسند کرتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جذبات کو محسوس نہ کرنے کے لیے بھی ایموشنل ایٹرز ایسی خوراک استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کو عارضی ریلیف مل سکے۔
ایموشنل ایٹرز اکیلے کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، یہ رویہ کھانے کی عادت کو دوسروں سے چھپانے اور تنقید سے بچنے کی کوشش ہو سکتی ہے، ایموشنل ایٹرز جب کھانا کھا لیتے ہیں تو وہ اس کے بعد بھی مزید کھاتے ہیں۔ شاید وہ کھانے سے سکون یا اطمینان محسوس کرتے ہیں۔
ایموشنل ایٹرز زیادہ کھانا کھانے سے بچنے کی اگر کوشش بھی کرتے ہیں تو ان کو وقفوں میں کھانا لینے میں مشکل ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھانا وزن میں اضافے اور صحت کے دیگر مسائل کا باعث بن سکتا ہے جس سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
