خیبر پختونخواہ بلدیاتی الیکشن الزامات کی زد میں

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور صوبائی حکومت پر الیکشن جیتنے کے لیے خزانے اور وسائل کے بے دریغ استعمال کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، تین سال قبل صوبے میں ضم ہونے والے دو قبائلی اضلاع میں پہلی بار بلدیاتی الیکشن ہونگے، قبائلی اضلاع میں خواتین کی بڑی تعداد ان میں حصہ لے رہی ہے، یاد رہے کہ صوبے کے 35 میں سے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر کو ہوںگے۔
سیاسی مخالفین کی جانب سے حکمران جماعت پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ جماعت کے سینئر رہنما نہ صرف اپنے قریبی رفقا کو انتخابی ٹکٹیں جاری کر رہے ہیں بلکہ ان کی کامیابی کے لیے سر دھڑ کے بازیاں لگا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبے کے 17 اضلاع میں انتظامات مکمل کر لیے ہیں جبکہ منتخب سیاسی رہنماؤں اور سرکاری حکام کو اس عمل پر اثر انداز ہونے سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی۔
خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر نے ایک خط کے ذریعے وزیرِاعظم عمران خان کو الیکشن سے پہلے پشاور کا دورہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ البتہ وزیرِ اعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کے ہدایات کو نظر انداز کر کے پشاور کا دورہ کیا اور سرکاری تقاریب میں شرکت کی۔ وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے ایک بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہٴ پشاور کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایک سرکاری دورہ تھا۔ اس کے انتظامات پہلے ہی سے کیے جا چکے تھے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 17 اضلاع میں مجموعی طور پر 37 ہزار سات سو 52 امیدوار بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ سٹی اور تحصیل میئر کے 66 نشستوں کے لیے 689 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ حکمران جماعت تحریکِ انصاف نے صوبے کے دارالحکومت پشاور کے میئر کی نشست پر صوبائی وزیرِ بلدیات کامران بنگش کے چھوٹے بھائی رضوان بنگش کو ٹکٹ دی ہے۔ پی ٹی آئی کے بعض کارکن رضوان بنگش کو تحریک انصاف کا نیا کارکن قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں پشاور کے میئر کے لیے ان کے مدِ مقابل پیپلز پارٹی کے ارباب زرک خان، جمعیت علماء اسلام (ف) کے حاجی محمد زبیر، جماعت اسلامی کے بحر اللہ خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی شیر رحمٰن جیسے مقبول سیاسی کارکن موجود ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ارباب زرک خان سابق وزیراعلیٰ ارباب محمد جہانگیر خان کے پوتے، سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر خان اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی مشیر عاصمہ عالمگیر ارباب کے بیٹے ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے حاجی زبیر سابق ضلعی ناظم حاجی غلام علی کے بیٹا اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے داماد ہیں۔ سابق وزیرِ اعلیٰ اور موجودہ وفاقی وزیر پرویز خٹک کے بیٹے اسحٰق خٹک کو تحریکِ انصاف نے تحصیل نوشہرہ کی نظامت کے لیے امیدوار مقرر کیا ہے۔ ان کا مقابلہ اپنے ناراض چچا زاد بھائی احد خٹک سے ہوگا، احد خٹک 2015 سے 2019 تک تحصیل نوشہرہ کا ناظم رہے ہیں۔
واضح رہے کہ احد خٹک لیاقت خٹک کے بیٹے ہیں جو وفاقی وزیر پرویز خٹک کے بھائی اور تحریکِ انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔ البتہ ان کے بیٹے احد خٹک پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تحصیل صوابی کی نظامت کے لیے تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے قریبی عزیز عطا اللہ کو نامزد کیا ہے جبکہ تحصیل رزڑ کی نظامت کے لیے صوبائی وزیرِ تعلیم شہرام خان ترکئی کے چچا بلند اقبال ترکئی کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔
تحصیل صوابی میں عطا اللہ کے مقابلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے اکمل خان جبکہ رزڑ میں بلند اقبال ترکئی کے مقابلے میں اے این پی کے غلام حقانی موجود ہیں۔ غلام حقانی 2015 سے 2019 تک تحصیل رزڑ کے ناظم رہ چکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے علی امین گنڈاپور کا شمار تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ خود وفاقی کابینہ کے رکن ہیں جبکہ ان کے بھائی فیصل امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کابینہ میں وزیرِ بلدیات کے حیثیت سے شامل ہیں۔ ان کے تیسرے بھائی عمر امین گنڈاپور کو تحصیل نظامت کے لیے تحریک انصاف کا ٹکٹ جاری کیا گیا، عمر امین گنڈاپور کا مقابلہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار سے ہوگا۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے ملحقہ ضلع بنوں کی تحصیل بکاخیل کی نظامت کے لیے صوبائی وزیر ملک شاہ محمد کے بیٹے ملک مامون خان وزیر کو تحریک انصاف کا ٹکٹ جاری کیا گیا۔
ضلع بونیر میں حکمران جماعت کے ضلعی صدر سید سالار جہان کو تحصیل کی نظامت کے لیے اُمیدوار مقرر کیا گیا، سالار جہان کے بھائی فخر جہان رکن صوبائی اسمبلی ہیں۔انتخابی عمل میں نہ صرف حکمران جماعت بلکہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے رہنماؤں پر الیکشن کمیشن کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔
حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزرا کے علاوہ ارکانِ صوبائی اسمبلی بھی اپنے اپنے قریبی عزیزوں کی انتخابی مہم میں شریک ہو رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور صوبائی وزرا کامران بنگش اور فیصل امین گنڈاپور کو قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
