آزاد کشمیر میں احتجاج کا محور مہاجر سیٹوں کا تنازعہ کیا ہے؟

 

 

 

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجروں کے لیے مختص 12 نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے سے شروع ہونے والا تنازعہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جانے کے باوجود حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ آزاد کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کے لیے احتجاج کے بعد کمیٹی پر پابندی کے حکومتی فیصلے نے آزاد کشمیر کی سیاست میں سخت کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

 

سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری کی گئی آئینی رائے نے اس تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی موجودہ 53 نشستوں میں سے 12 نشستیں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نشستیں دراصل 1947 کے بعد وجود میں آنے والے اس تاریخی اور سیاسی بندوبست کا حصہ ہیں جس کے تحت جموں، وادی کشمیر اور دیگر علاقوں سے پاکستان منتقل ہونے والے کشمیریوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تصور کرتے ہوئے سیاسی نمائندگی دی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کراچی، ملتان، پشاور اور دیگر شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین آزاد کشمیر اسمبلی کے ان حلقوں میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔

 

اگرچہ یہ نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اس پر سوالات اٹھنا شروع ہوئے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مہاجر نشستیں اپنی اصل افادیت کھو چکی ہیں اور اب انہیں آزاد کشمیر میں وفاقی حکومت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں قائم یہ حلقے آزاد کشمیر کی حکومتوں کی تشکیل اور تبدیلی میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں حالانکہ ان حلقوں کے ووٹرز آزاد کشمیر میں رہائش پذیر بھی نہیں ہوتے۔

 

کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستوں کے ذریعے پاکستان کی قومی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کی اندرونی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام کی منتخب حکومتوں پر بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہی نشستیں ہیں۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ان نشستوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا پھر اگر مہاجرین کی نمائندگی برقرار رکھنی ہے تو ان کے نمائندے آزاد کشمیر کے اندر موجود مہاجر کیمپوں سے منتخب کیے جائیں۔ دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت، مختلف سیاسی جماعتیں اور مہاجر نشستوں کے موجودہ و سابق نمائندے اس مؤقف سے سخت اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں صرف انتخابی حلقے نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت اور کشمیر کاز کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق 1947 کے بعد ہجرت کرنے والے لاکھوں کشمیری خاندان آج بھی ریاست کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں نمائندگی سے محروم کرنا کشمیر کے قومی بیانیے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔

 

سابق رکن اسمبلی ماجد خان سمیت کئی سیاسی شخصیات کا مؤقف ہے کہ مہاجروں کے لیے مختص نشستوں کا خاتمہ دراصل ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کے تصور کو کمزور کرے گا۔ ان کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ صرف 12 نشستیں حکومتیں بناتی یا گراتی ہیں کیونکہ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے اسمبلی میں کم از کم 27 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاجر نمائندگی کو ختم کرنے کے بجائے انتخابی نظام میں بہتری لانے پر توجہ دینی چاہیے۔

 

اس بحث میں ایک مختلف نقطۂ نظر آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے پیش کیا۔ ان کے مطابق مہاجر نشستوں پر نظرثانی کا مطالبہ آئینی، قانونی اور اخلاقی بنیادیں رکھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مستقل طور پر آباد افراد پاکستانی شہری ہیں، اس لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں ان کی خصوصی نمائندگی کے موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انکے مطابق یہ معاملہ جذباتی نہیں بلکہ انتظامی اور آئینی نوعیت کا ہے کیونکہ آزاد کشمیر حکومت کی عملداری ریاستی حدود تک محدود ہے جبکہ مہاجر ووٹر پاکستان کے مختلف صوبوں میں رہتے ہیں۔

اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو انتخابی شفافیت سے متعلق ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل کے مطابق ماضی میں مہاجر حلقوں میں ووٹر لسٹوں اور جعلی ووٹوں کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ووٹرز پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں بھی حصہ لیتے ہیں، اس لیے مقامی سیاسی اثر و رسوخ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم الیکشن حکام کا مؤقف ہے کہ کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں اور جدید انتخابی طریقہ کار کے ذریعے شفافیت میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔

 

یہ معاملہ تب مزید حساس ہو گیا جب ستمبر 2025 میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں عوامی ایکشن کمیٹی کے کئی مطالبات تسلیم کر لیے گئے جبکہ مہاجر نشستوں کے مسئلے پر مزید مشاورت کا وعدہ کیا گیا۔ بعد ازاں حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ معاملہ آئینی نوعیت کا ہے، اس لیے اس کا فیصلہ صرف اسمبلی یا عدالت ہی کر سکتی ہے۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے اپنی رائے سنا دی ہے لیکن یہ تنازعہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

 

حکومتی ذرائع کے مطابق بعض سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے 12 مخصوص نشستوں کو کم کرکے 6 کرنے کی تجویز زیر غور آئی تھی، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سیٹوں کے مکمل خاتمے کے مطالبے پر قائم رہی۔ نتیجتاً مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور معاملہ دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کی صورت اختیار کر گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر ریاستی امور، سرکاری سرگرمیوں اور انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ریاستی اداروں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے آئینی فورمز پر ہونا چاہیے۔ چناچہ جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہروں اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تو حکومت نے اس پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم تنظیم قرار دے دیا۔

 

اس تنازعے کے دوران سب سے اہم پیشرفت سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی جانب سے صدارتی ریفرنس پر جاری کی گئی رائے ہے۔ یاد رہے کہ صدر آزاد کشمیر نے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46-A کے تحت یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا تھا تاکہ مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت کے بارے میں رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

سپریم کورٹ نے اپنی تفصیلی آئینی تشریح میں قرار دیا ہے کہ اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی فیصلے یا حکومتی حکم کے ذریعے ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان نشستوں کی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین، عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے عبوری آئین اور 1975 کے قانونی ڈھانچے سے جڑی ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عوامی مینڈیٹ، اسمبلی میں بحث اور مکمل آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ آئینی معاملات کا فیصلہ منتخب اسمبلی کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا اصل مقصد کیا ہے؟

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں یہ بھی واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں حتمی اور فیصلہ کن قوت آئین کی بالادستی ہے، نہ کہ سڑکوں پر ہونے والا دباؤ۔ عدالت نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم سڑکوں کی بندش، ریاستی معاملات میں رکاوٹ یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنا آئینی تحفظ کے دائرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

عدالتی رائے آ جانے کے بعد سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو مہاجر نشستوں کے معاملے پر قانونی اور آئینی تقویت حاصل ہو گئی ہے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بنیادی مطالبے کو فوری طور پر عملی شکل دینا مشکل ہو گیا ہے۔ انکے مطابق عدالت نے طے کر دیا ہے کہ اگر مہاجر نشستوں کے نظام میں کوئی تبدیلی مطلوب ہے تو اس کا راستہ احتجاج، دباؤ یا محاذ آرائی نہیں بلکہ آئینی ترمیم اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی گزرے گا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن 27 جولائی کو ہونے جا رہے ہیں لہذا اگلی اسمبلی ہی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کر سکتی ہے۔

Back to top button