آزاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا اصل مقصد کیا ہے؟

 

 

 

27 جولائی 2026 کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے آزاد کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کو محض ایک مقامی حکومتی کارروائی سمجھنا سادہ فہمی ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی الیکشن سے چند ہفتے پہلے کیے جانے والے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے سیاسی اور ریاستی مقاصد کارفرما ہیں۔

 

پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ سرکاری نوٹس اور پولیس بیانات میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی وجہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ممکنہ خرابی ہے چونکہ کمیٹی نے 9 جون کو آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے۔ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اس حوالے سے پولیس نے گرفتار ہونے والے شرپسندوں سے ہتھیار برآمد کرنے اور ان کے خارجی رابطوں کے شواہد ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

 

یاد رہے کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرے تب شروع ہوئے تھے جب پونچھ میں ہونے والی مظاہرین اور پولیس کی جھڑپ کے دوران شاہ زیب حبیب نامی تاجر کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعے نے لا اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب کر دی اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ فوری طور پر سخت اقدامات کرے کیونکہ پچھلے برس ہونے والے اسی طرح کے مظاہروں میں کئی پولیس والے مارے گئے تھے۔ چنانچہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

لیکن اہم بات یہ ہے کہ کمیٹی پر پابندی تب لگائی گئی جب آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو اسمبلی کے انتخابات طے ہیں، اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پناہ گزین کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ فیصلہ ساز اس مطالبے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کیونکہ انکے خیال میں ایسا کرنے سے روایتی سیاسی توازن متاثر ہو گا۔ لہٰذا انتخابی مہم سے پہلے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

 

فیصلہ سازوں کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگانے کا مقصد یہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت اور مقامی نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ 27 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے لیے امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس پر پابندی لگانے کا بنیادی مقصد عام انتخابات کے نتائج کو متاثر کرنا ہے۔ اسکی قیادت کا کہنا ہے کہ کمیٹی پر پابندی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ چند مخصوص سیاسی جماعتوں کے لیے سازگار انتخابی ماحول بنایا جا سکے تاکہ کشمیری عوام کا استحصال جاری رکھا جا سکے۔

 

ادھر حکومت کا موقف ہے کہ کسی بھی تنظیم کی جانب سے ریاست مخالف عناصر کی پشت پناہی سے ہونے والے احتجاج کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی کے فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے بنیادی حقِ احتجاج اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگانا اگلے الیکشن میں عوام کی شرکت کے جذبے اور انتخابی مہم کو متائثر کر سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ عوامی کمیٹی کے بیشتر مطالبات آئینی یا سیاسی نوعیت کے ہیں، لہٰذا انہیں قانون ساز اداروں میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔

گلگت بلتستان الیکشن : پیپلز پارٹی کی کامیابی پر وزیراعظم کی صدر زرداری اور بلاول کو مبارک باد

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ انکی تنظیم مقامی عوامی مسائل کی نمائندہ ہے، اور اس کی جانب سے کشمیری پناہ گزین نشستوں کے خاتمے جیسے مطالبات سراسر جائز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کھاتے میں غیر کشمیریوں کو اسمبلی میں گھسا دیا جاتا ہے جس سے کشمیری عوام کی حق تلفی ہوتی ہے۔ کمیٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو پابندیاں عائد کر کے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کمیٹی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر لگائی گئی پابندی اسے زیرِ زمین کارروائیوں کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے جس سے آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

Back to top button