کیا مذاکرات کے ذریعے پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن ہے؟

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سفارت کاری، سلامتی، سرحدی تنازعات اور علاقائی سیاست ایک دوسرے سے جڑ کر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس کے سب سے سنگین اثرات عام افغان عوام پر پڑ رہے ہیں، جو پہلے ہی غربت، بے روزگاری، انسانی بحران اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق افغانستان سے تعلقات بارے پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مختلف شدت پسند گروہ پاکستانی علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں رواں سال فروری میں پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ بعد ازاں سرحدی علاقوں میں متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ افغانستان نے ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا جبکہ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے اقدامات قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری تھے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق کشیدگی کے اس ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور تجارتی رکاوٹوں نے افغانستان کی معیشت کو مزید کمزور کر دیا۔ چونکہ افغانستان کی بڑی تجارتی ضروریات پاکستان کے زمینی راستوں سے وابستہ رہی ہیں، اس لیے سرحدی بندشوں کا براہ راست اثر عام شہریوں، تاجروں اور مزدور طبقے پر پڑا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار ہے، تاہم سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔ اپریل 2026 میں چین کی میزبانی میں ارومچی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات نے ایک مرتبہ پھر بات چیت کا راستہ کھولا۔ ان مذاکرات میں پاکستان، افغانستان اور چین کے نمائندوں نے شرکت کی اور کشیدگی میں کمی، رابطوں کی بحالی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول پاک افغان ارومچی مذاکرات کی سب سے اہم کامیابی یہ تھی کہ دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ تاہم بنیادی اختلافات خصوصاً دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور باہمی اعتماد کے بحران کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔اس دوران غیر رسمی یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ استنبول میں حالیہ غیر رسمی مذاکرات میں سفارتی اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی جبکہ ایک اور دور جلد متوقع بتایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے رابطے اکثر رسمی مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین خطے میں استحکام کو اپنی اقتصادی اور تزویراتی ترجیحات کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ روس نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانے کی سمت اہم پیش رفت کی ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی دونوں ممالک کو مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

تاہم ناقدین کے مطابق روس اور افغانستان کے درمیان دفاعی تعاون کے حالیہ معاہدے نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماسکو افغانستان کو وسط ایشیا کے استحکام کے تناظر میں اہم قرار دیتا ہے اور داعش خراسان سمیت شدت پسند گروہوں کے خلاف تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ کابل بھی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر اپنی سفارتی تنہائی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مبصرین کے بقول افغانستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب اس نے پاکستانی راستوں پر انحصار کم کرنے کیلئے ایران کی بندرگاہوں کا رخ کیا، لیکن خطے میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگیوں اور تجارتی غیر یقینی صورتحال نے اس حکمت عملی کو بھی متاثر کیا۔ نتیجتاً درآمدات، برآمدات اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل مزید مشکلات کا شکار ہو گئی۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر عام افغان شہری ہو رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں نقل مکانی، تجارتی سرگرمیوں میں کمی، روزگار کے مواقع کی قلت اور مہاجرین کی واپسی نے لاکھوں خاندانوں کیلئے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ افغانستان پہلے ہی شدید انسانی بحران سے دوچار ہے اور مسلسل کشیدگی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ممالک دوبارہ بامعنی مذاکرات کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟ سفارتی حلقوں کے مطابق اس کا انحصار بڑی حد تک اعتماد سازی کے اقدامات پر ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے قابلِ تصدیق اقدامات چاہتا ہے جبکہ افغانستان اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات میں مداخلت نہ ہونے کی یقین دہانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں مکمل مفاہمت فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتی، تاہم مذاکرات کے دروازے کھلے رہنا ہی ایک مثبت اشارہ ہے۔ اگر چین، روس، یورپی یونین اور دیگر علاقائی شراکت دار دونوں ممالک کو اعتماد سازی کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاک افغان تعلقات میں بہتری کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button