بجٹ 2026-27: عوام کو کون سابڑا ریلیف ملنے والا ہے؟

وفاقی حکومت 10 جون کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، ایسے میں مسلسل مہنگائی، بجلی اور گیس کے بڑھتے بل، ایندھن کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے پریشان عوام نے بجٹ سے کسی نہ کسی ریلیف کی امید لگالی ہے۔تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام، مالیاتی خسارے اور محدود مالی گنجائش کے باعث حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر ریلیف دینے کی زیادہ گنجائش موجود نہیں۔ اس کے باوجود بعض مخصوص شعبوں میں حکموت محدود ریلیف دے سکتی ہے۔

معاشی امور کے ماہر شہباز رانا کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس نظام میں کچھ نرمی کر سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں تنخواہ دار افراد پر ٹیکس کا بوجھ مسلسل بڑھا ہے، جس کی وجہ سے متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انکم ٹیکس سلیبز میں ردوبدل، ٹیکس شرح میں کمی یا ٹیکس فری آمدنی کی حد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تاکہ ملازمت پیشہ افراد کو کچھ ریلیف مل سکے۔

معاشی ماہرین کے بقول حکومت اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلئے کارپوریٹ سیکٹر اور برآمد کنندگان کو بھی مراعات دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے بعض ٹیکسوں میں کمی یا خصوصی مراعات متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔یہ اقدامات نہ صرف کاروباری ماحول بہتر بنانے میں مددگار ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق حکومت اگر پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کو مناسب سطح پر رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو عوام کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ان کے مطابق توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے، جس کا فائدہ براہ راست عام آدمی کو پہنچے گا۔ مبصرینے کے مطابق بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کی اسکیموں کیلئے فنڈز بڑھائے جانے کا بھی امکان ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت کم آمدنی والے طبقے کو براہ راست مالی مدد فراہم کرنے پر توجہ دے سکتی ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

تاہم اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ محض وقتی ریلیف مسائل کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کو سرمایہ کاری، صنعت، برآمدات، تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق سیونگ ریٹ بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے، مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے اور کاروباری لاگت کم کرنے جیسے اقدامات معیشت کی طویل المدتی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔

معاشی ماہر راجا کامران کے مطابق حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے اندر رہتے ہوئے عوامی توقعات پوری کرنا ہے۔ان کے مطابق بجٹ کا بڑا حصہ دفاع، صحت، تعلیم اور دیگر سرکاری خدمات پر خرچ ہوگا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھی وسائل مختص کیے جائیں گے۔ ایسے میں حکومت کیلئے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے عوامی ریلیف دینا آسان نہیں ہوگا۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت، تعلیم، بلدیاتی سہولتوں اور کئی ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری صوبوں کے پاس ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال کریں تو عوام کو براہ راست اور فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے بقول بجٹ 2026-27 سے بڑے پیمانے پر ریلیف کی توقع شاید حقیقت پسندانہ نہ ہو، تاہم تنخواہ دار طبقے، کم آمدنی والے افراد، کاروباری شعبے اور برآمد کنندگان کیلئے محدود مگر اہم سہولتوں کا امکان موجود ہے۔ اصل امتحان حکومت کیلئے یہ ہوگا کہ وہ مالیاتی استحکام، آئی ایم ایف کی شرائط اور عوامی توقعات کے درمیان متوازن راستہ کیسے اختیار کرتی ہے۔

Back to top button