خیبر پختونخوا میں خواتین جنسی ہراسانی سے پریشان

صوبہ خیبر پختونخوا میں جنسی ہراسانی سے عام خواتین سمیت اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز خواتین بھی محفوظ نہیں، جس سے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین میں عدم تحفظ کا احساس خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے۔
اس حوالے سے سرکاری، غیرسرکاری اداروں اور انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہر ادارے اور ہر کام کرنے کی جگہ پر خواتین کے ساتھ ہراسانی اور جنسی ہراسانی کے کیسز ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ صوبے میں اس حوالے سے انسداد ہراسانی قانون بھی موجود ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کےلیے کمیٹیاں بھی بنی ہیں، پھر کیوں یہ مسئلہ سامنے نہیں لایا جاتا؟ اور اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس مسئلے کے پیچھے اصل محرکات ہیں کیا؟
سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کے پاس اعداد و شمار ایک حد تک تو ہیں تاہم غیر سرکاری اداروں کے ساتھ صوبائی محتسب برائے تحفظ انسداد ہراسانی رخشندہ ناز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ کیسز ہزاروں میں ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوتے۔
ان کا کہناہے کہ ’اگر یونیورسٹیوں، کالجوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں بنی ہوئی کمیٹیوں کے ہی کیسز جمع کرنا شروع کریں تو یہ کیسز ہزاروں میں ہیں۔‘
خواتین کے حقوق کےلیے کام کرنے والے نجی اداروں کے مطابق نہ صرف خواتین کے ساتھ ان کے اداروں میں ہراسانی ہوتی ہے بلکہ گھروں کے اندر اور باہر دوسری جگہوں پر بھی مختلف قسم کی ہراسانی ہوتی ہے۔
لیکن صوبائی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2019 سے جنوری 2020 تک ان کے پاس خواتین کی ہراسانی کے کل 59 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں جنسی ہراسانی کے صرف 22 کیسز ہیں۔
خیبرپختونخوا میں ہراسانی کے کیسز کے حوالے سے رخشندہ کہتی ہیں کہ صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے پاس آنے والے کل 59 کیسز میں سب سے زیادہ کیس محکمہ تعلیم سے، دوسرے نمبر پر محکمہ صحت اور اس کے بعد عام جگہوں اور سائبر کرائم کے حوالے سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کیسز میں سائبر کرائم، گھریلو تشدد اور دوسرے بھی شامل تھے لیکن ان کے ادارے کے دائرہ اختیار میں جنسی ہراسانی کے کیسز صرف 22 آئے۔22 کیسز میں سے چھ کیسز حل کیے جا چکے ہیں اور باقی پر مختلف مراحل میں کام جاری ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ شروع میں ان کے ساتھ مسئلے تھے جیسے کہ خواتین کی رازداری برقرار رکھنا اور متعلقہ افراد کو کئی کئی بار مطلع کرنا لیکن ان کےمطابق اب ان پر بھی تیزی سے کام ہورہا ہے۔
عورت فاؤنڈیشن کی صوبائی منیجر صائمہ منیر کہتی ہیں کہ ہر جگہ پر خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ دفتروں یا کام کرنے کی جگہوں پر مرد موقع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کب خواتین ان کے ہاتھ آئیں۔
صائمہ منیر کے مطابق: ’لڑکیوں اور خواتین کو سب سے پہلا مسئلہ ان کے ساتھیوں کی جانب سے پیش آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ ہراسانی ہوئی ہے تو دوسرے ساتھی پوچھے بغیر کہتے ہیں کہ ہم اتنے عرصے سے یہاں کام کرتے ہیں، آج تک ہمیں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔ الٹا ہراساں کی جانے والی خاتون کے اوپر الزامات لگنا شروع ہوجاتے ہیں کہ شاید ان کا اس بندے سے کوئی ذاتی اختلاف ہے اور اسی وجہ سے یہ ہراساں کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ اس لیے زیادہ تر خواتین دفاتر میں چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیرسرکاری، خاموشی میں ہی بہتری سجھتی ہیں۔‘ یونیورسٹیوں ميں اگر پروفیسر کے خلاف شکایت کی جاتی ہے تو لڑکیوں انہی وجوہات کی بنا پر بار بار فیل کیا جاتا ہے۔
خود رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ شروع میں جب ادارہ بنا تو ان کے سامنے بہت سے مسائل تھے، جیسا کہ کمیٹیاں بنانا اور اس حوالے سے تربیت اور سب سے بڑی بات آگاہی کا نہ ہونا تھی۔
پاکستان میں 2010 میں وفاقی سطح پر خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے تحفظ دینے کےلیے ایک ایکٹ بنا تھا، خیبرپختونخوا میں یہ قانون بننے میں تقریباً نو سال لگے اور 2019 میں یہاں کابینہ کے منظوری کے بعد صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کا تقرر کیا گیا۔
اس قانون کے بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر خواتین کام کی جگہوں پر ہراسانی کی شکایت کرنا چاہیں تو وہ اس قانون کے تحت اپنے متعلقہ ادارے میں بنی کمیٹی میں شکایت درج کرواسکیں۔ صوبائی محتسب کے مطابق کافی اداروں میں کمیٹیاں بن بھی چکی ہے۔
رخشندہ ناز نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ’اس قانون کے مطابق ایک تو یہ کہ ہر سرکاری اور غیرسرکاری ادارے میں تین اراکین پر مشتمل کمیٹی بنے گی جس میں خاتون کا ہونا لازمی ہے اور جتنے بھی جنسی ہراسانی کے کیسز آئیں گے، وہ کمیٹی میں رپورٹ ہوں گے۔ تاہم اگر کمیٹی نے مسئلہ حل نہ کیا تو متاثرہ خاتون صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت کریں اور اگر وہاں بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس سے آگے گورنر کو شکایت کی جائے گی جب کہ پورٹل کے ذریعے بھی شکایت کی جاسکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’دوسرا یہ کہ یہ قانون مردوں اور عورتوں دونوں کےلیے یکساں مفید ہے۔ تیسرا یہ کہ ہر ادارے میں قواعد و ضوابط ہوں گے، جس کے تحت ادارے میں کسی قسم کی ہراسانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کو کمیٹی ممبر کے خلاف شکایت ہے تو اس کے خلاف سینئرز کو یا صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت کی جائے۔
صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ صوبے کے تقریباً ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر دفتر موجود ہیں اور ہر کوئی وہاں شکایت کرسکتا ہے۔ ’سوشل ویلفیئر دفتر میں نہ صرف ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے کیسز لیے جاتے ہیں بلکہ خواتین سے متعلق کیسز، جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، انہیں بھی لے کر متعلقہ اداروں کو بھیجا جاتا ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button