دنیا بھر میں 2020 میں 50 صحافیوں کو قتل کیا گیا

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈر (آر ایس ایف) کے مطابق 2020 میں صحافی اور میڈیا کارکنوں پر مشتمل 50 افراد ہلاک کو ان کے کام کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ بیشتر صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو ایسے خطوں میں قتل کیا گیا جہاں جنگ نہیں چل رہی تھی۔نگران تنظیم نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار منظم جرائم، بدعنوانی یا ماحولیاتی امور کی تحقیقات کرنے والے نامہ نگاروں کے ہدف میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔آر ایس ایف کی رپورٹ میں میکسیکو، بھارت اور پاکستان میں صحافیوں کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ 2019 میں 63 فیصد کے مقابلے میں امسال ہلاک ہونے والوں میں سے 68 فیصد کو اپنے کام کی وجہ ’جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا‘۔آر ایس ایف کے چیف ایڈیٹر پاولین اڈیس میول نے کہا کہ ’اب کئی برسوں سے رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز نے یہ بات نوٹ کی کہ تحقیقی صحافی ریاستوں یا کارٹیلز کی کارروائی کا ہدف بنتے ہیں‘۔رپورٹ میں کہا گیا کہ میکسیکو سب سے مہلک ملک تھا جہاں 8 صحافی یا میڈیا ورکز کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈر میں کہا گیا کہ ’منشیات اسمگلروں اور سیاستدانوں کے مابین روابط باقی ہیں اور جو صحافی ان سے متعلقہ معاملات سے پردہ ہٹانے کی ہمت کرتے ہیں انہیں قتل کردیا جاتا ہے‘۔
آر ایس ایف نے مزید کہا کہ 1995 سے میکسیکو کے کسی بھی قاتل کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ افغانستان میں 5 صحافی مارے گئے۔آر ایس ایف نے حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے تناظر میں کہا کہ حالیہ مہینوں میں میڈیا کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہو اہے۔رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈر کی رپورٹ میں میں ایرانی حزب اختلاف کے رہنما روح اللہ زام کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی۔
خیال رہے کہ روح اللہ زام سوشل میڈیا چینل چلایا تھا جس میں حکومت کے خلاف مخالفین کو بھڑکانے کا الزام تھا اور انہیں دسمبر میں پھانسی دی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پھانسی سے ’ایران ایک ایسے ملک کی حیثیت سے نمایاں ہو جس نے گزشتہ نصف صدی میں باضابطہ طور پر سب سے زیادہ صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارا‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button