دینی مدرسے جنسی درندوں کی آماجگاہ کیوں بن گئے؟


لاہور کے ایک معروف دینی مدرسے سے وابستہ ایک باریش مفتی کی اپنے ایک باریش شاگرد سے جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے بے راہ روی کے خلاف جہاد کے لیے خود کو وقف کر دینے والے متقی اور پرہیز گار برادران اسلام کی سناٹا گیر خاموشی کوئی جانا بوجھا نہیں بلکہ ایک فطری نفسیاتی ردِعمل ہے۔
ابھی تو وہ اس سوچ کے قفس میں بند ہیں کہ ’نہیں نہیں ایسا کیسے ممکن ہے، یہ فاشسٹ لبرل سیکولر لابی کی سوچی سمجھی سازش ہے، جس کا مقصد مدارس کی خود مختاری کو لگام دینا اور انھیں مغربی مفادات کے تابع کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔‘ دراصل یہ منجن اس زمانے میں آسانی سے بک جاتا تھا جب بہت کم ٹھوس ثبوت سامنے آیا کرتے تھے۔ اب تو ہر دوسرے تیسرے دن ایسی کوئی نہ کوئی ویڈیو سوشل میڈیا کے پانی پر لاشے کی طرح تیرتی نظر آتی ہے۔ چنانچہ حیرت اور خبریت ایک نیا معمول بن گئی ہے۔ تاہم اگر ہم اس معاملے کو محض روایتی ہنسی ٹھٹھول میں اڑا دیں گے تو مزید اپنا ہی نقصان کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار معروف صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان نے اپنے تازہ تجزیے میں کیا ہے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر لاھور کے جامعہ منظور الاسلامیہ کینٹ کے مہتمم مفتی عبدالعزیز کی ایک طالب علم صابر شاہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل تھی۔ تاہم اب شاگرد کی جانب سے استاد کے خلاف پرچہ درج ہونے پر لاہور پولیس نے مفتی صاحب کو میانوالی سے گرفتار کر لیا ہے۔ لاہور کے کرمنل انویسٹیگیشن سیل ماڈل ٹاؤن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس حسنین شاہ نے بتایا کہ پولیس نے ملزم اور ان کے تین بیٹوں کو میانوالی سے اتوار کے روز گرفتار کیا جو وہاں کسی عزیز کے گھر چھپے ہوئے تھے۔
پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس انعام غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ‘پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ہم اس کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں گے، ان سے تفتیش کی جائے گی، پیشہ ورانہ طریقے سے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ہوں گی اور ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں عدالت سے سزا دلوائیں گے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی استحصال کرنے والوں سے محفوظ رکھنا چاہتے اور اپنے مستقبل کے لیے اپنے معاشرے کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ مفتی لاہور کے رہائشی ہیں اور گذشتہ 25 سال سے مدرسہ منظور الاسلامیہ میں بطور معلم کام کرتے رہے تھے۔ وہ جمیعت علما اسلام کے لاہور سے رکن بھی تھے۔ تاہم جمیعت علما اسلام نے طالب علم کے ساتھ ریپ کا واقعہ سامنے آنے کے بعد مفتی سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ جماعت کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مفتی کی بنیادی رکنیت واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دی گئی ہے۔’جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں اس وقت تک انھیں ضلع لاہور کی ہر سطح کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ ان کے کسی قول اور فعل کی جمیعت علما اسلام ذمہ دار نہ ہو گی۔
اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ جنسی بے راہ روی کی مبینہ روک تھام کی نیت سے کسی پاک صاف یک جنسی ماحول کی تشکیل ہو کہ رہبانیت کی تحریک، جہاں جہاں انسان فطرت اور اس کے تقاضوں سے ٹکرایا وہاں وہاں اس نے منھ کی کھائی۔ آپ زن و مرد کے فطری تعلق کو ایک کڑے یا ڈھیلے ڈھالے سماجی ضابطہِ اخلاق و قانون کے تحت منظم و باقاعدہ تو بنا سکتے ہیں مگر تعلق اور کشش کے وجود سے یکسر انکار اور اس انکار کے جواز میں نفس کشی کی مشقِ لاحاصل کے ذریعے اپنے لیے کئی نئے مسائل بھی کھڑے کر لیتے ہیں۔ یعنی ایک انتہا کا توڑ دوسری انتہا سے کرنے کا نتیجہ ہمیشہ تیسری انتہا کی شکل میں نکلتا ہے۔
سوشل میڈیا کی آمد سے پہلے یہ سارا نظام ’نہ دیکھو، نہ کہو، نہ سنو‘ کی بنیاد پر چلتا رہا۔ مگر اب ’می ٹو‘ جیسی تحریکوں اور موبائل کیمرے کی ایرے غیرے تک رسائی نے اس مشق ِناگفتنی و علتِ مشائخ کے چہرے سے نقاب کھینچنا شروع کر دی ہے۔
چرچ نے تو بالآخر جنسی زیادتیوں کے منظم نظام کے وجود کا چند برس قبل اعتراف کر کے اصلاحات کا وعدہ کر لیا مگر ہمارے ہاں ابھی یہ مسئلہ ’نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے‘ کے نفسیاتی پیچ میں اٹکا ہوا ہے۔ وسعت اللہ کے مطابق اگلا مشکل مرحلہ خود تراشیدہ مجسمہِ عظمت کی شکست و ریخت قبول کرنے کا ہو گا اور تب کہیں جا کر مسئلے کے حل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کا مرحلہ آئے گا۔ وہ کہتے ہیں ذرا تصور کیجیے ایک ایسے ماحول کا جہاں نوخیز بچے اور عمر رسیدہ و جہاندیدہ بزرگ 24 گھنٹے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں، تصورِ زن کراہیت کا استعارہ ہو، ٹی وی اور ریڈیو کی کمرے میں موجودگی حرام ہو، اخباری مطالعے کے بھی اوقات مقرر ہوں اور نجی لمحات کا کوئی تصور نہ ہو۔
شاگردوں کی اکثریت کا پس منظر غربت زدہ ماحول سے لتھڑا ہو، والدین اس خوف سے چپ ہوں کہ جو دال روٹی، اقامتی سہولت اور عالمانہ سرپرستی ان کے بچے کو میسر ہے کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔سرکار اس خوف سے ہاتھ نہ ڈالے کہ پہلے ہی بھڑوں کے چھتے کیا کم ہیں کہ ایک اور کو چھیڑ دیا جائے۔
وسعت اللہ کہتے ہیں کہ جس عمارت کا روزمرہ نظام ہی خوف کی کرنسی پر چل رہا ہو، استاد کا شاگردوں کے ایک ایک پل اور مستقبل پر مکمل تصرف ہو، نظام اس قدر مطلق العنان اور بہرہ ہو کہ کوئی چیخ اور آسمان گیر فریاد سننے کے بھی قابل نہ رہے۔ اس سناٹے میں جب کوئی ایک آدھ پریشر ککر پھٹتا ہے تو کیوں لگتا ہے گویا کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ مدرسے جیسا اتنا منظم اور صدیوں پرانا ادارہ اندرونی احتساب کی کسی روایت کے بغیر چل رہا ہو۔ یقیناً کبھی موثر پوچھ گچھ کی روایت بھی رہی ہو گی، مگر اب تو یہ ہے کہ اگر کوئی استاد یا عملے کا رکن جنسی و جسمانی تشدد یا جبری تعلق میں ملوث پایا جائے تو واقعہ کی سنگینی کے اعتبار سے اسے تنبیہہ، پشیمانی کے کفارے یا برخواستگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پولیس اور قانون تک رسائی کی نوبت ہی نہیں آتی۔یعنی ہمارے ہاں سے دفعان ہو جاؤ، کسی اور جگہ بھلے یہ علت جاری رکھو۔
وسعت اللہ خان سوال کرتے ہیں کہ کیا اس مسئلے کا کوئی قابلِ اطمینان حل ممکن ہے؟ وہ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک بچے کو جب جئید اساتذہ کے زیرِ سایہ تربیت کی نیت سے ایک معروف درس گاہ میں داخل کروایا گیا تو ہفتے بھر بعد بچے نے درس گاہ میں جانے سے انکار کر دیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بچے نے پورا ماجرا کھول دیا۔ باپ طیش کے عالم میں بچے کا ہاتھ پکڑ کے مہتممِ درس گاہ تک پہنچا اور چیخا کہ ایسے تعلیمی ادارے پر چار حرف بھیجتا ہوں جہاں میرا بچہ محفوظ و مامون نہ ہو۔ مہتمم صاحب نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے فرمایا:حضور والا مجھے افسوس ہے کہ آپ کے بچے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوا۔ ہم اس واقعہ کی تحقیق کر کے ذمہ دار فرد کا کڑا احتساب کریں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے بچے کو یہیں رہنے دیں۔ کہیں اور داخل کرانے کا کوئی فائدہ نہیں، نصاب ہر مدرسے میں یکساں ہی ہے۔ کسی دوسرے مدرسے میں بھی ایسی ہی مشکلات سے گزرنا ہو گا۔ یعنی یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

Back to top button