راجیو گاندھی کا قتل کا مجرم 30 برس بعد کیسے رہا ہوا؟


سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل میں عمر قید کی سزا پانے والے 50 سالہ مجرم پیرا ریوالن کو بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے رہا کر دیا ہے، پیراریوالن گزشتہ 30 برس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہے تھے۔ بھارتی عدالت کے جج جسٹس ایل ناگیسوارا راؤ کی سربراہی میں موجود بینچ نے 50 سالہ اے جی پیرا ریوالن کو ریلیف دینے کے لیے اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال کیا جبکہ ملزم کو پہلے ہی مارچ میں پیرول پر رہا کر دیا گیا تھا۔

اے جی پیرا ریوالن کو 21 مئی 1991 کو جنوبی ریاست تامل ناڈو میں راجیو گاندھی کی ہلاکت کا سبب بننے والے بم میں استعمال ہونے والی بیٹریاں فراہم کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔یہ بم دھماکا سری لنکا کے مسلح علیحدگی پسند گروپ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلام یا ایل ٹی ٹی ای کی جانب سے کیا گیا تھا، خودکش بم دھماکے کے ذریعے راجیو گاندھی کی ہلاکت کو 1987 میں ہندوستانی حکومت کے سری لنکا کے ساتھ تامل باغیوں کو غیر مسلح کرنے کے معاہدے پر جوابی انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھا گیا تھا، بعد میں انڈیا نے باغیوں کے ہاتھوں اپنے 12 سو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جزیرہ نما ملک سے اپنی افواج کو واپس بلا لیا تھا۔

اے جی پیرا ریوالن جسے 1991 میں گرفتار کیا گیا تھا، راجیو گاندھی کے قتل کے وقت ان کی عمر 19 سال تھی، ابتدا میں اس کو موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اس کا کیس اس وقت سے ریاست اور مرکزی حکومت کے درمیان قانونی پیچیدگیوں میں الجھا ہوا تھا جب اس نے 2015 میں رحم کی درخواست دائر کی تھی۔

تامل ناڈو کے گورنر نے اس کی درخواست پر فیصلہ ہندوستان کے صدر کو ارسال کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس کی ‘آئینی حیثیت’ نہیں ہے اور اے جی پیراریوالن کی رہائی کا حکم دینے کے لیے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا۔

راجیو گاندھی قتل کیس میں دیگر 6 لوگ اب بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اکتوبر 1984 میں اپنی والدہ وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل ہونے کے بعد راجیو گاندھی ہندوستان کے اب تک کے سب سے کم عمر رہنما بنے تھے، انہوں نے پانچ سال بعد الیکشن ہارنے تک حکومت کی۔

Back to top button