عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے نے مہنگائی بڑھائی

وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ملک میں حالیہ مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کے معاہدے نے ملک کو آج اس نہج تک پہنچا دیا ہے، اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں اس وقت عوامی حکومت ہے۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ملک کی معیشت 4 سال میں جس جگہ پہنچ گئی ہے، جس طرح پاکستان کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر مہنگائی کی شرح کو بڑھایا گیا ہے۔ سابق حکومت نے گزشتہ ادوار سے 80 فیصد زائد قرضہ لیا۔
وزیراطلاعات کے مطابق قرض 25 ہزار سے 43 ہزار ارب کردیا گیا ہے، غذائی مہنگائی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2.3 فیصد پر تھی لیکن آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد پر پہنچایا۔ پاکستان 2018 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہوگیا اور ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچی تھی، جس کو پہلے منفی کیا گیا اور 4 سال ہچکولے کھاتی رہی، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمان کی حکومت تھی تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
مریم اونگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی تو اس وقت سی پیک، 11 ہزارمیگاواٹ بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے، منصوبوں کی مشینری آئی تھی اور اس وقت ڈالر مستحکم تھا لیکن سیاسی عدم استحکام مچا کر 3 دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے کے اوپر نکالا گیا تو ڈالر 105 روپے پر تھا اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر 115 روپے پر تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج جو سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر 4 ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور تھوڑی شرم کرنی چاہیے کہ ڈالر 189 میں ان کی حکومت میں گیا، قومی خزانے کی جو بدحالی ہے وہ آپ کے دور میں ہوئی، جب عدم اعتماد کی کامیابی تھی تو اس وقت 193 پر انٹربینک پر ڈالر تھا، تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت اوروزیراعظم نے آئی ایم ایف عمران خان کے دستخط شدہ معاہدے پر ملا۔
