رانا ثنااللہ قسمیں اٹھانے کی بجائےعدالت میں ثبوت دیں،ڈی جی اے این ایف

ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس اے این ایف میجر جنرل عارف ملک نے کہا ہے کہ کیا کوئی گرفتار ہونے والا شخص کہتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں، سرعام قتل کرنے والے نے کبھی کہا میں مجرم ہوں، معاملہ عدالت میں ہے رانا ثنااللہ وہاں ثبوت دیں۔
ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناءاللہ اور شہر یار آفریدی دونوں نے حلف لے رکھا ہے، دونوں لاٹری نکال لیں، اس میں سے نکل آئے گا کون گناہ گار ہے، ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل عارف ملک نے کہا کہ کیا کوئی گرفتار ہونے والا شخص کہتا ہے کہ میں گناہ گار ہوں، سر عام قتل کرنے والا بھی خود کو بے گناہ کہتا ہے۔
رانا ثناء اللہ کے خلاف کیس اور حلف دینے سے متعلق سوال پر ڈی جی اے این ایف نے کہا اگر معاملات حلف سے چلنے ہیں تو عدالتوں کو تالا لگا دیں۔
یاد رہے کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر اپنی بے گناہی ثابت کی تھی اور ساتھ ہی اپنے خلاف کیس بنانے والوں کو بدعائیں بھی دی تھیں۔گزشتہ روز بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران رانا ثناء اللہ اور وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کے درمیان قرآن پاک پر حلف اٹھانے کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی تھی۔
