راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں مڈل کلاس لوگ برباد ہو گئے

تحریک انصاف حکومت اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ سے راولپنڈی روڈ منصوبے میں غیر قانونی وسعت اور نئے انٹرچینجز نقشے میں شامل کئے جانے کے بعد وہاں درجنوں ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بھرپور تشہری مہم چلا کر ہزاروں پلاٹس فروخت کر دیئے۔ تاہم مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ایسے خریدار جو ان پلاٹس پر گھر بنانا چاہتے تھے وہ رنگ روڈ کا فراڈ سامنے آنے کے بعد اپنی جمع پونجی ڈوب جانے کے باعث ہلکان ہورہے ہیں۔
نیب ، ایف آئی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے مجوزہ راولپنڈی رنگ روڈ کے آس پاس واقع سوسائٹیز کے مالکان کے اثاثوں کی چھان بین کے علاوہ سوسائٹیز کی طرف سے حاصل کی جانے والی زمین اور اوریجنل زمین سے زیادہ فائلیں فروخت کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن یہاں فائلیں خرید کر سرمایہ کاری کرنے والے اور گھر بنانے کے لئے پلاٹس خریدنے والے ہزاروں متاثرین کو ان اداروں پر یقین نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور سپریم کورٹ کا ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے ورنہ خدشہ ہے کہ ان کی جمع پونجی لٹ جائے گی۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں راولپنڈی رنگ روڈ کا مبینہ سکینڈل اُس وقت سامنے آیا جب مقامی میڈیا پر یہ خبریں نشر ہوئیں کہ بااثر افراد کے کہنے پر اس منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کر دی گئی ہے جس کا مبینہ مقصد اس منصوبے کے ارد گرد موجود نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانا تھا۔اس کیس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اس پر اٹھنے والے اضافی اخراجات کا تخمینہ 25 ارب روپے لگایا گیا ہے۔یہ خبریں سامنے آنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے تحقیقات کا حکم دیا اور کمشنر راولپنڈی ڈویژن کی سربراہی میں بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اس منصوبے کے چند کرداروں کی نشاندہی کی، جس میں اگرچہ کسی سیاسی شخصیت کا براہ راست ذکر تو نہیں ہے لیکن لینڈ مافیا اور چند ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔زلفی بخاری پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور اُن کا نام کلیئر ہونے تک وہ کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کریں گے جبکہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کا کسی لینڈ مافیا سے کوئی تعلق ہے۔راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے کے ڈیزائن میں مبینہ طور پر تبدیلی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد جن علاقوں سے یہ رنگ روڈ گزرنی تھی وہاں پر موجود ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار اور پھر وہاں پر سرمایہ کاری کرنے والے ہزاروں افراد ابھی تک اس پریشانی کا شکار ہیں کہ کہیں ان کا سرمایہ لٹ تو نہیں جائے گا؟
نیب، ایف آئی اے اور پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے بیک وقت اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کر رکھا ہے۔ اینٹی کرپشن کے ایک اہلکار کے مطابق روالپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے میں تبدیلی کے بعد جب اس میں 19 کلومیٹر کا اضافہ کرکے ضلع اٹک کا بھی کچھ حصہ شامل کیا گیا اور اس کو اٹک لُوپ کا نام دیا گیا تو اس حصے میں اب تک کے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق 15 سے زائد نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی گئیں جن کی تشہر اس منصوبے کے پس منظر میں کی گئی۔اہلکار کے مطابق صرف ان 15 نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کے پاس 55 ہزار کنال سے زیادہ کی اراضی ہے۔محمد اعظم بھی ایسے سرمایہ کاروں میں سے ہیں جنھوں نے بہتر منافع حاصل کرنے کے لیے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں دو سو کے قریب پلاٹوں کی فائلیں خریدی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کا سکینڈل منظر عام پر آنے سے تین ہفتے قبل انھوں نے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی فائلیں ڈاؤن پیمنٹ پر خریدی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانچ مرلہ رہائشی پلاٹ کی فائل ڈاؤن پے منٹ پر تین سے پانچ لاکھ روپے کی مل رہی تھی جبکہ کمرشل پلاٹ 20 سے 25 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ پر مل رہا تھا۔اعظم کے مطابق اس علاقے میں واقع سوسائٹیز میں تین اور پانچ مرلے کمرشل پلاٹ کی قیمت ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک تھی اور کمرشل پلاٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار بھی وہی تھا جو کہ رہائشی پلاٹ حاصل کرنے کا ہے لیکن سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد حالت یہ ہے کہ جس قمیت پر انھوں نے فائلیں خریدی تھیں ابھی اتنی قیمت بھی نہیں مل رہی ہے۔ محمد اعظم کا کہنا ہے کہ ان جیسے سینکڑوں سرمایہ کاروں نے ان سوسائٹیز میں سرمایہ کاری کی ہے لیکن چھوٹے سرمایہ کار جن کے پاس سرمایہ زیادہ نہیں ہے وہ اس غیر یقینی صورتحال سے پرشان ہیں اور وہ اب اس کوشش میں ہیں کہ جس قمیت پر انھوں نے فائلیں خریدی تھیں کم از کم وہی رقم ہی ان کو واپس مل جائے۔انھوں نے کہا کہ ان سوسائٹیز کو کام کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اگرچہ این او سی تو مل چکا ہے لیکن سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد خریداروں کا اعتماد بحال ہونے میں ایک عرصہ درکار ہوگا۔
محکمہ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اس منصوبے میں مبینہ طور پر تبدیلی کے بعد جن پندرہ سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ رنگ روڈ کے قریب دیگر ایک درجن سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز نے ان کے نام جو زمین ہے اس سے کہیں زیادہ فائلوں کو فروخت کر دیا ہے۔اہلکار کے مطابق رنگ روڈ منصوبے میں تبدیلی کے بعد ان نجی ہاوسنگ سوسائٹیز نے پانچ انٹرچینج کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات خود اٹھانے کی حامی بھری تھی کیونکہ ان انٹرچینجز کی وجہ سے ان کے کاروبار میں اضافہ متوقع تھا۔اہلکار کے مطابق ایک اندازے کے مطابق ان انٹرچینجز پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ دس ارب روپے سے زیادہ کا لگایا گیا تھا۔ اگرچہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تھوڑی سی سڑکیں بننے کے علاوہ ابھی تک قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہوئے لیکن ان کی ہونے والے ترقیاتی کام سے کہیں بڑھ چڑھ کر تشہیر کی گئی۔رنگ روڈ منصوبے کے سکینڈل کے منظر عام آنے کے بعد ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں فائلوں کی خریدو فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور اپنا گھر ہونے کا خواب سجانے والے افراد غیر یقینی کا شکار ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی طور پر زمین بھی خریدی اور منصوبے کی الائنمٹ میں غیر قانونی طور پر تبدیلی بھی کی۔اس کے علاوہ بعض مقامی زمین مالکان سے انٹرچینج بنانے کے لئے سرکاری ریٹ پر سستی زمین خرید کر نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کو بیچ دی گئی مگر ان متاثرین کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔محمد عزیز کیانی بھی ایسے کرداروں میں سے ایک ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کی زمین کا مارکیٹ ریٹ دو کروڑ روپے فی کنال ہے جبکہ انھیں سرکاری ریٹ پر ڈیڑھ لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے زمین کی قمیت ادا کی گئی اس پر انھوں نے احتجاج کیا جس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں جن ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ڈائریکٹر اسلام آباد زون وقار چوہان کو اعلیٰ حکام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس ضمن میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔ ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم ان سوسائٹیز کے مالکان کے اثاثوں کی چھان بین کے علاوہ سوسائٹی کی طرف سے حاصل کی جانے والی زمین اور اوریجنل زمین سے زیادہ فائلیں فروخت کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیں گی۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نیب نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔پنجاب کے انسداد رشوت ستانی کے محکمے کے علاوہ ایف آئی اے اور نیب جیسے ادارے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے سکینڈل کی الگ الگ تحقیقات کرر ہے ہیں لیکن متاثرین کو ان اداروں پر یقین نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور سپریم کورٹ کا ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
دوسری جانب ان نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ان کا مؤقف حاصل کیے بغیر رپورٹ تیار کی گئی ہے۔فیڈریشن آف پاکستان رئیلیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سردار طاہر نے بتایا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کا راولپنڈی رنگ روڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سردار طاہر کا کہنا تھا کہ اگر تفتیشی ادارے ان سے رابطہ کریں گے تو وہ ضرور اپنا مؤقف پیش کریں گے۔

Back to top button