رواں برس 25 ہزار افراد ڈینگی کا نشانہ بن گئے

پاکستان میں رواں برس 25 ہزار افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ اس مرض سے 42 افراد کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد 2011 کا ریکارڈ ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے جب ملک میں 27 ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق اس سال 2011 کے مقابلے میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی اموات میں کمی کا امکان ہے جبکہ 2011 میں اس مرض کے نتیجے میں 370افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔تاہم رواں برس ڈینگی کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس ملک بھر میں ڈینگی کے 25 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں اسلام آباد سے 6 ہزار 5 سو 37 کیسز، پنجاب سے 5 ہزار 6 سو 42، سندھ سے 4 ہزار 4 سو3 ، خیبرپختونخوا سے 4 ہزار 2 سو 76 اور بلوچستان سے 2 ہزار 7 سو 50 کیسز کی تصدیق ہوئی۔اس کے علاوہ ڈینگی کے باقی کیسز دیگر علاقوں سے رپورٹ ہوئے جن میں آزاد جموں و کشمیر اور قبائلی اضلاع شامل ہیں جبکہ دو تہائی کیسز پوٹھوہار کے علاقے سے بھی سامنے آئے ہیں۔ڈینگی کے نتیجے میں سندھ میں 15، اسلام آباد میں 13، پنجاب میں 10، بلوچستان میں 3 اور آزاد جموں کشمیر میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔
ڈاکٹرز کے مطابق رواں سال میں 2011 کی نسبت شرح اموات میں کمی کی وجہ علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی دستیابی ہے۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں ڈیزیز سرولینس ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ بڑی تعداد میں مرض کی تصدیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب نگرانی اور آگاہی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مریض ڈینگی کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ خود کرواتے ہیں۔تاہم انہوں نے عوام کو نہ گھبرانے کی ہدایت کی کیونکہ 90 فیصد مریضوں کو علاج کی بھی ضرورت اور ڈینگی سے متاثرہ زیادہ تر افراد ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے جاں بحق ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ ’ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈینگی کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، اس وقت 125 ممالج میں موجود آدھی سے زیادہ آبادی کو خطرہ ہے، عالمی ادارہ صحت نے 2019 کے آغاز میں ڈینگی کو عالمی سطح پر عوام کی صحت سے متعلق 10 بڑے خدشات میں شامل کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال 13 اگست تک فلپائن میں ڈینگی کے 2 لاکھ 92 ہزار 76 کیسز کی تصدیق اور ایک ہزار 84 اموات ہوئیں، 26 ستمبر تک ویتنام میں ایک لاکھ 24 ہزار 7 سو 51 کیسز رپورٹ ہوئے، 26 ستمبر تک ملائیشیا میں 98 ہزار ایک سو 84 کیسز، 10 ستمبر تک تھائی لینڈ میں 85 ہزار 5 سو 20 کیسز، 16 ستمبر تک بنگلہ دیش میں 81 ہزار 8 سو 39 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ26 ستمبر تک سری لنکا میں ڈینگی کے 46 ہزار ایک سو 26، 26 ستمبر تک سنگاپور میں 12 ہزار 3 سو 71، بھوٹان میں 29 اگست تک 7 ہزار 6 سو 64 اور 4 ستمبر تک مالدیپ میں 3 ہزار 7 سو 6 کیسز رپورٹ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ’ خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی 2019 میں ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافے کا سامنا ہے‘۔اپنی بات جاری رکھتے انہوں نے کہا مچھر اپنی 20 روز کی زندگی میں 100 میٹر سے زیادہ نہیں اڑ سکتے، یہ گھروں میں پیدا ہوتا ہے اور قریبی مقامات پر انڈے دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی صورتحال کی نگرانی کے لیے این آئی ایچ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو فعال کیا گیا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر وفاقی اور صوبائی محکمات صحت کو رپورٹ ارسال کی جا رہی ہے
