رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ

وزارت مذہبی امور نے موجودہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرکے تشکیل نو کا فیصلہ کرلیا، موجودہ چیئرمین اور ممبران کو تبدیل کرکے نئے لوگ بھی کمیٹی میں شامل کئے جائیں گے، چاند کے ازخود اعلان پر سخت سزائیں دی جائیں گی، وزارت مذہبی امورنے نئی قانون سازی مکمل کرلی، مسودہ تیار کرکے وزارت قانون کو بھجوا دیا ہے۔
وزارت مذہبی امور اور وزارت قانون کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق قانون سازی کی وزارت قانون کے بعد کابینہ اجلاس میں منظوری لی جائے گی جس کے بعد اسمبلی میں لایا جائے گا، وہاں سے منظوری کے بعد مسودے پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ نئی کمیٹی میں تمام فرقوں سے تعلق رکھنے علماء کو شامل کیا جائے گا۔
کوئی بھی فرد چاند دیکھنے یا عید سے متعلق اعلان نہیں کرسکے گا، اگر کسی کو شواہد ملیں گے تو وہ حکومتی کمیٹی کو آگاہ کرے گا جو مکمل جائزہ لینے کے بعد کسی نتائج کا اعلان کرے گی، اگر کوئی فرد رویت ہلال کمیٹی کو شواہد نہیں دیتا اور خود بخود ہی اعلان کردیتا ہے یا اپنے ساتھ متعدد افراد کو ملاکر اجتماعی اعلان کرتے ہیں تو اس صورت میں انہیں 5 سال تک سزائیں اور 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
نئی رویت ہلال کمیٹی میں وزارت مذہبی امور، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، موسمیات، سپارکو اور دیگر متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کا دوبارہ سے انتخاب کیا جائے گا جب کہ ممبران کا بھی دوبارہ سے تعین کیا جائے گا، جس کا باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری ہوگا۔
وزار ت مذہبی امور کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا مسودہ وزارت قانون کو بھجوادیا گیا ہے جس کے بعد متعلقہ فورم سے منظوری کے بعد رویت ہلال کمیٹی دوبارہ تشکیل دی جائے گی، جس کے بعد نئے قوانین کے مطابق سب امور سرانجام دیئے جائیں گے۔ وزارت قانون نے بتایا کہ مسودہ موصول ہوگیا ہے، مکمل جائزہ لینے کے بعد اسے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button