ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی پر منظورپشتین کی گرفتاری

بنوں میں دو ہفتے پہلے ایک عظیم الشان جلسے کے انعقاد سے پشتون تحفظ موومنٹ نے پختونوں میں اپنی بڑھتی مقبولیت تو ثابت کردی لیکن اسٹبلشمنٹ کے کان بھی کھڑے کردئیے۔ چنانچہ 26 جنوری 2020 کی رات ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر پشتون تحفظ موومنٹ کے بانی منظور پشتین کو ریاست کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرنے کے الزام میں بغاوت کے جرم پر گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ پر پشاور جیل منتقل کر دیا گیا۔
منظور پشتین کو رات گئے پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد عدالت نے ان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔ منظور پشتین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے تہکال پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں جلد پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو منتقل کر دیا جائے گا جہاں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔ ذرائع کے مطابق منظور پشتین کو ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سٹی پولیس تھانے میں پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق منظور پشتین کے ساتھ گرفتار کیے گئے دیگر چار سے پانچ افراد پر مالک مکان کو کرایہ ادا نہ کرنے کا الزام ہے اور انھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریک سے وابستہ افراد کو پرامن رہنے کے لیے بھی کہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘ہم مشاورت کے بعد ایک حکمت عملی مرتب کریں گے، ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو آئینی حقوق کے لیے کیے گئے مطالبات پر سب سے زیادہ پریشان ہیں لیکن ہم تمام تر حالات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ منظور پشتین پشاور میں پی ٹی ایم کے ایک نئے دفتر کے قیام پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ منظور پشتین کو حراست میں لینے کی وجہ پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے پر امن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے۔ منظور پشتین کوفوری طور پر رہا کیا جائے۔
Last night Manzoor Pashteen was arrested in Tehkaal, Peshawar. This is our punishment for demanding our rights in a peaceful & democratic manner. But Manzoor's arrest will only strengthen our resolve. We demand the immediate release of Manzoor Pashteen.#ReleaseManzoorPashteen
— Mohsin Dawar (@mjdawar) January 27, 2020
یاد رہے کہ منظور احمد پشتین بد امنی سے متاثرہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنوں کے آرمی پبلک سکول اور کالج میں زیر تعلیم رہنے والے منظور پشتین نے مقامی سطح پر اپنی محسود تحفظ تحریک 2014 میں شروع کی تھی اور مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں وہ اپنی سوچ واضح کرتے رہے۔ منظور پشتین اکثر بمباری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مظاہرے کرتے تھے، لیکن سب سے بڑا مظاہرہ اُنھوں نے ٹانک میں 15 نومبر 2016 کو کیا تھا جس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔ اسلام آباد میں فروری 2018 کے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور نے اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا بڑا کینوس دے دیا بلکہ اس کی تنظیم نو بھی شروع کر دی۔ بعد میں عوامی جلسوں کا سہارا لے کر انھوں نے اس تحریک کا دائرہ قبائلی علاقوں سے بڑھا کر بلوچستان اور کراچی تک پھیلا دیا۔
