ریٹائرمنٹ آ گئی لیکن جسٹس شوکت کو انصاف نہ مل سکا

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کو اپنی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت شروع کرنے کے لئے چار خطوط لکھنے کے باوجود کسی قسم کی ہل جل نہ ہونے کے بعد اب اس بات کا واضح امکان پیدا ہوگیا ہے کہ دوسروں کو برسوں تک انصاف دینے والا جج اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا کیونکہ انہیں نکلوانے والی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کا مقصد بھی یہی تھا۔
یاد رہے کہ انصاف نہ ملنے پر مایوسی کا شکار اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے 29 اپریل کو سپریم کورٹ میں ایک نئی متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ چونکہ وہ 30 جون کو ریٹائر ہوجائیں گے لہذا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے 4 مئی کو ان کا کیس سماعت کے لئے مقرر کیا جائے۔ تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔ تین سال قبل اسلام آباد میں وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کے بعد جسٹس ثاقب نثار عرف بابا رحمتے کے ہاتھوں فارغ ہونے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مسلسل اس کوشش میں لگے ہیں کہ اپنی برطرفی کے خلاف ان کی دائر درخواست کی سماعت شروع ہو جائے۔ لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ انکو نکلوانے والے ان کی ریٹائرمنٹ تک اس کے کے کیس کی سماعت نہیں ہونے دیں گے۔ خیال رہے کہ اگر جسٹس شوکت کو برطرف نہ کیا جاتا تو آج وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔
چونکہ ان کا کیس چیف جسٹس گلزار کی منظوری سے لگنا ہے اسلئے جسٹس شوکت صدیقی جسٹس گلزار کو چار مرتبہ خط لکھ کر یاد دہانی کروا چکے ہیں لیکن یہ کوششں بے سود رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر اپنی نئی متفرق درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یاد دلوایا تھا کہ 11 اکتوبر 2018 سے اب تک ان کی درخواست مسلسل التوا کا شکار ہے اور اب تک کیس کی ابتدائی مراحل کی کارروائی بھی ممکن نہیں ہو پائی لہذا 4 مئی کو کیس سماعت کے لئے مقرر کیا جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بارہا اس خدشے کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ شاید عدالت عظمی ان کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں ان کا کیس لٹکائے چلے جا رہی ہے۔ جسٹس صدیقی نے اپنی نئی متفرق درخواست میں کہا ہے کہ اگر وہ بطور جج اپنے عہدے پر بحال رہتے تو انہوں نے 30 جون 2021 کو ریٹائرڈ ہو جانا تھا، لہازا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ان کا مقدمہ 4 مئی 2021 کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے۔ تاہم ابھی تک ان کا کیس سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا گیا۔
جسٹس صدیقی نے صدر علوی کی جانب سے 11 اکتوبر 2018 کو جاری کردہ اپنے برطرفی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے۔ اس کیس کی پہلی سماعت ڈھائی برس کے انتظار کے بعد 28 جنوری 2021 کو ہوئی تھی، جس میں عدالت نے وفاق پاکستان اور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کی تھی لیکن تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی کیس کو دوبارہ سماعت کے لے مقرر نہیں کیا گیا۔شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں تقریر کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کی وجہ سے برطرف کیا گیا تھا۔ اس دور میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاوٹ کا کردار ادا کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس صدیقی کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد صدر علوی سے ان کو برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے راولپنڈی بار سے خطاب میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور اپنی مرضی کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتی ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اُنھیں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس چیف جسٹس ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایکشن لیں۔ شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ فیض حمید نے، جو اس وقت ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی تھے، فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے میں دباو ڈالنے کے لیے ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ اپنی برطرفی کے بعد ردعمل دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ انھوں نے کہا تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پہ شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا نہ ہی میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کو جانچنے کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔‘
تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے لکھی گئی سفارشات میں کہا گیا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی ججز کے بارے میں بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اس لیے اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے سب سیکشن 6 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے جسٹس صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جسٹس صدیقی کے خلاف اس تقریر سے متعلق ریفرنس کی صرف ایک ابتدائی سماعت ہوئی تھی اور یہ سماعت بھی ان کیمرہ یعنی خفیہ تھی جس کے بعد اس ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ لہازا اب بھی یہی نظر آتا ہے کہ جن خفیہ طاقتوں نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی چھٹی کروائی تھی، وہ نہیں چاہتیں کہ 30 جون کو انکی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان کے کیس کا فیصلہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button