ریپ والے بیان پر جمائمہ کی بھی کپتان پر چڑھائی

https://youtu.be/tNPWZgDDp18
عورتوں کے غیر مناسب لباس کو ریپ کی وجہ قرار دینے پر وزیراعظم عمران خان کو ملک بھر کی شوبز شخصیات اور سول سوسائٹی کی تنقید کا سامنا تو تھا ہی لیکن اب انکی سابقہ گوری اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے بھی انہیں نشانے پر رکھ لیا ہے۔
خواتین کے لباس اور ‘ریپ’ سے متعلق عمران خان کے بیان پر ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے رد عمل دیتے ہوئے اپنی ایک پرانی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی 8 اپریل کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اور دوبارہ سے’۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جمائما نے اپریل میں وزیراعظم کے بیان پر رد عمل دیا تھا، اپنے اسی بیان کا ایک حصہ ری ٹوئٹ کرتے ہوئے جمائما نے اسلامی ملک سعودی عرب کا ایک واقعہ بیان کیا اور واضح کیا کہ مسئلہ خواتین کے لباس کا نہیں ہے۔ جمائما نے لکھا کہ سعودی عرب میں ایک عمر رسیدہ باپردہ خاتون کو نوجوان مرد حضرات نے ہراساں کیا۔ ایسے واقعات سے بچنے کا واحد رستہ مرد حضرات کے چہرے ڈھانپنا اور انہیں پردہ کروانا ہے۔ اس ٹوئٹ میں جمائما نے واضح کیا تھا کہ مسئلہ یا خرابی خواتین کے لباس میں نہیں ہے۔ اس سے پہلے جمائما نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ممکنہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو غلط سمجھا گیا یا اس کی وضاحت غلط کی گئی، کیوں کہ وہ جس عمران کو جانتی ہیں وہ ایسے نہیں۔ تاہم عمران خان کے حالیہ بیان پر ردعمل کے بعد اکثر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے جمائما گولڈ اسمتھ کی ٹوئٹ پر تبصرے دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک صارف نے کہا کہ آپ انٹرویو دوبارہ دیکھیں۔ عائشہ نامی صارف نے لکھا کہ ‘جمائما، آپ مردوں پر شک کرنا بند کریں اور پہلے اَن ایڈیٹڈ انٹرویو دیکھیں۔ کچھ صارفین نے کہا کہ ایسا بیان دینے سے جمائما کو ‘اعزازی بھابھی-شپ’ کے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ ماریانا نامی صارف نے لکھا کہ جمائما چند الفاظ میں پوری بات کہہ دیتی ہیں۔ کچھ صارفین نے لکھا کہ اس ٹوئٹ پر کمنٹس بہت مزاحیہ ہیں۔
دووری جانب معروف اداکارہ و ٹی وی میزبان ماریہ واسطی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم محض ایک جملے میں ملک کی نصف آبادی کو قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہیے تھا۔ ماریہ واسطی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ وزیر اعظم کے اس بیان کو کیسے دیکھتے ہیں، جس میں انہوں نے خواتین کے لباس کو ’ریپ‘ سے جوڑا ہے؟ تو انکا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کی جانب سے اگر کوئی غلط بات پہلی مرتبہ کی جا رہی ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس نے غلطی سے کہی ہے لیکن اگر دوسری مرتبہ بھی وہ شخص وہی غلطی دہرائے تو پھر یہ سمجھا جائے گا کہ وہ بات اس کے نظریات کا حصہ ہے۔ ماریہ واسطی کا مزید کہنا تھا کہ ’ریپ‘ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اسے یوں پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم ایسی واہیات بات نہیں کرنی چاہیے، انہیں ایک ہی لائن میں ملک کی نصف آبادی کو قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بہت پیچیدہ اور بڑا ہونے کے علاوہ عالمی مسئلہ بھی ہے۔ ماریہ کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی اور ’ریپ‘ کو ایک جرم سمجھا جانا چاہیے اور وکٹم کو صرف وکٹم کی نظر سے دیکھا جائے کیوں کہ اس کی کوئی صنف نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ’ریپ‘ کو خواتین کے لباس سے جوڑنا غلط ہے۔
ماریہ کے بعد اداکارہ صنم سعید نے بھی اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا۔ صنم نے لکھا کہ شیریں مزاری، برائے مہربانی وزیراعظم کے لیے روزانہ ریپ کا شکار ہونے والے مردوں، خواتین اور بچوں کی ایک فہرست بنائیں اس سے قطع نظر کہ انہوں نے کیسا لباس پہنا تھا تاکہ ایسے اشتعال انگیز اور پریشان کن بیانات دوبارہ کبھی نہ دیے جائیں۔
