ریپ کے مجرموں کو خصی کرنے کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

https://youtu.be/sadaTi39pMM
اسلامی نظریاتی کونسل نے ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے کے قانون کو غیر اسلامی قرار دے دیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف حکومت کی آرڈیننس فیکٹری سے نکلنے والا ایک اور آرڈیننس باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرنے سے محروم رہ گیا ہے اور اب ریپ کے مجرموں کو خصی کرنا ممکن نہیں رہا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے 225ویں اجلاس میں کہا گیا کہ فوجداری قانون ترمیمی آرڈیننس 2020 کے تحت ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے کا قانون غیر اسلامی ہے۔اجلاس میں رائے دی گئی کہ اس کی جگہ متبادل مؤثر سزائیں تجویز کی جائیں۔خیال رہے کہ گزشتہ سال وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ موٹر وے پر اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے چند دن بعد، مستقبل میں اس جرم کے ارتکاب سے بچنے کے لیے جنسی مجرموں کے "کیمیکل کاسٹریشن” یعنی نامرد بنانے کی تجویز دی تھی۔ گذشتہ برس 24 نومبر کو وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کی متفقہ منظوری سے ریپ کے مجرموں کے لیے کیسٹریشن کا آرڈیننس لانے کی اصولی منظوری دے دی تھی۔ اس موقعے پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا، اعظم سواتی اور پیر نورالحق قادری سمیت چند وزرا نے زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا قانون کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا، جس پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ ابتدائی طور پر کیسٹریشن کے قانون کی طرف جانا ہوگا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق عمران خان نے ریپ کیسز کو سنگین نوعیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون سازی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے، عوام کے تحفظ کے لیے واضح اور شفاف انداز میں قانون سازی ہو گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سخت سے سخت قانون کا اطلاق ہو۔ تاہم اب اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے اس قانون کی مخالفت کے بعد اسے باقاعدہ قانون کی شکل دینے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ 15 دسمبر 2020 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سے متعلق کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی ریپ انویسٹگیشن اینڈ ٹرائل آرڈیننس 2020 کی باضابطہ منظوری دی تھی جس کے تحت ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے سے قبل اس کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی۔
آرڈیننس کے مطابق ریپ کے ملزمان کے خلاف مقدمات کی تیزی سے سماعت اور انہیں جلد از جلد نمٹانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو 4 ماہ میں اس نوعیت کے مقدمات کو نمٹائیں گی۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ‘اس قانون میں جنسی مجرموں کے لیے کیمیکل کاسٹریشن اور سزائے موت سمیت سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ ‘علاوہ ازیں اسلامی نظریاتی کونسل نے ملتان میں عید میلاد النبی ﷺ کے دوران جلوس میں حورِ جنت کے نام پر کئے جانے والے عمل کو نامناسب قرار دے دیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔کونسل نے زور دیا کہ آئندہ کے لیے ایسی نامناسب حرکتوں کے انسداد کو یقینی بنایا جائے۔
علاوہ ازیں اسلامی نظریاتی کونسل نے تعلیمی اداروں میں اخلاقی اقدار کی پاس داری اور جنسی ہراسانی کے انسداد سے متعلق جامع لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے قومی تعلیمی کانفرنس بلانے کی تجویز دی ہے۔ کونسل نے دینی مدارس، عصری تعلیمی اداروں اور جامعات سے متعلق اخلاقی معاملات کے حوالے سے سامنے آنے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں دینی اور عصری تعلیمی اداروں میں اخلاقی اقدار کی بحالی کے لیے دینی مدارس کے تمام مکتبہ فکر کے وفاق اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی تعلیم کی وزارتوں کو مراسلہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button