زبردستی کرونا ویکسی نیشن کیخلاف درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے زبردستی کرونا ویکسی نیشن کیخلاف درخواست مسترد کردی، ویکسین کی مخالفت کرنے والے دوسرے شہریوں کے حقوق کا خیال کریں، شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کرنا چاہیے، یکارڈ پرکوئی ایسی ریسرچ نہیں کہ ویکسین زندگی کیلئے خطرہ ہے، ویکسین کوڈبلیو ایچ او جیسے اداروں نے بھی محفوظ قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے زبردستی کرونا ویکسی نیشن کیخلاف درخواست مستردکردی ہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کو ریاست کے شہریوں کو جان لیوا کرونا سے بچانے کی پالیسیوں پر اعتماد کرنا چاہیے، ویکسین کی مخالفت کرنے والے دوسرے شہریوں کے حقوق کا خیال کریں، آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی ضمانت کچھ پابندیوں سے مشروط ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سائنسدانوں اور پروفیشنل محققین نے انسانوں کو بچانے کی ویکسین تیار کی، ڈبلیو ایچ او جیسے اداروں نے ویکسین کو محفوظ قرار دیا، ابھی تک ریکارڈ پرکوئی ایسی ریسرچ نہیں کہ جس سے ثابت ہو کہ ویکسین سے زندگی کو خطرہ ہے، ویکسین نہ لگوانے والے وباء سے بچاؤ کیلئے حکومتی کوشش میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی رکاوٹ کے باعث انسداد پولیو مہم پہلے ہی رکاوٹ بنتی رہی، درخواست گزار نے اپنے مئوقف کے حق میں کوئی ٹھوس مواد پیش نہیں کیا، لہذا کورونا ویکسی نیشن کیخلاف دائر درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
واضح رہے این سی اوسی نے یکم اکتوبر پابندیوں سے متعلق انتباہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت یکم اکتوبرسے ایسے تمام افراد پہ، جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہوگی ، روزمرہ زندگی میں زیر استعمال بہت سی سہولیات کی بندش کر دی جائے گی۔
این سی اوسی نے ہدایت کی کہ ویکسینیشن کا عمل جلد از جلد مکمل کروایں اور زندگی رواں رکھیں۔ وزارت صحت نے نئی پابندیوں سے متعلق فہرست جاری کردی ہے، جس کے تحت یکم اکتوبر سے غیر ویکسین شدہ افراد پر پابندیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، شادی ہال میں بھی داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
