زرتاج گل کے 19 نکات کو مطالعہ پاکستان کا حصہ بنانے کا مطالبہ


اپنے لایعنی اور جاہلانہ بیانات کے حوالے سے شہرت رکھنے والی تحریک انصاف حکومت کی وفاقی وزیر مملکت زرتاج گل کوویڈ 19 کے حوالے سے نیا شگوفہ چھوڑ کر ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ہیں۔ زرتاج کی جانب سے اس حیرت انگیز انکشاف کے بعد کہ کووڈ 19 کا مطلب ہے کہ اس کے 19 نکات ہیں جو کسی بھی ملک میں کسی بھی طریقے سے لاگو ہو سکتے ہیں، سوشل میڈیا صارفین مطالبہ کررہے ہیں کہ’قائدِ اعظم کے 14 نکات کے ساتھ ساتھ زرتاج گُل کے 19 نکات کو بھی مطالعہِ پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔
وزیر اعظم عمران خان کی مسکراہٹ کو قاتلانہ قرار دینے والی زرتاج اس سے پہلے ملک میں ہونے والی غیر موسمی بارشوں کا کریڈٹ بھی خاں صاحب کو دے چکی ہیں۔ وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے اب سرکاری ٹی وی پر ایک پروگرام کے دوران بڑے اعتماد کے ساتھ یہ جاہلانہ بونگی ماری ہے کہ کووڈ 19 کا مطلب ہے کہ اس کے 19 نکات ہیں جو کسی بھی ملک میں کسی بھی طریقے سے لاگو ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرونا محض ایک فلو ہے۔زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب زرتاج گل یہ بونگیاں مار رہی تھی تو سرکاری ٹی وی کے اینکر وزیر مملکت سے متفق دکھائی دیے اور اثبات میں سر ہلاتے رہے۔
واضح رہے کہ کووڈ 19 کرونا وائرس کے نام کا مخفف ہے۔ کووڈ سے مراد ہے کہ یہ کرونا وائرس کی ایک قسم ہے، وی سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک بیکٹیریا نہیں بلکہ وائرس ہے، ڈی سے مراد اس بیماری سے ہے اور 19 کا مطلب یہ ہے کہ یہ 2019 میں دریافت کیا گیا، یعنی کووڈ 19۔
پاکستان میں وزیرِ موسمیاتی تبدیلی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ 19 کا مطلب سال 2019 ہے۔چلیں اس لاعلمی کی تو خیر ہے مگر بہت سے ٹوئٹر صارفین کو یہ بات بری لگی کہ وزیرِ نے نہ جانتے ہوئے بھی اتنی خوداعتمادی سے قومی ٹی وی چینل پر غلط معلومات دیں جیسے کہ وہ کوئی ماہر ہیں۔ بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا پر بیٹھے نقادوں کے ہاتھ بات آ گئی اور انھوں نے زرتاج گل کو غلط معلومات فراہم کرنے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔عدنان بھٹانی نامی ایک صارف نے زرتاج گل کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئےگلہ کیا کہ ‘یہ حکومت کیا خاک مقابلہ کرے گی کرونا وائرس کا، جس کی وزیر کو یہ نہیں معلوم کہ کووڈ 19 کا کیا مطلب ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد صارفین کی جانب سے آنے والے شدید ردعمل کے بعد وزیر مملکت زرتاج گل نے اس پر وضاحت کی۔اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ کہ وہ دراصل کہنا چاہتی تھیں کہ ‘وبا کا اثر، مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ چند لمحوں کی خطا پر یوں ماتم کناں ہونے کے بجائے اپنی جماعتوں کے حشر نشر پر توجہ دیں۔انھوں نے اپنے قائد کی پیروی کرتے ہوئے یہ لکھا کہ وہ پرچی کے بغیر روزانہ ٹی وی پر گھنٹوں بات کرتی ہیں اور اپنے مداحوں کو بھی تسلی دی کہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتیں بلکہ اس سے اور مضبوط ہوتی ہیں۔ یعنی اپنی بونگی تسلیم کرکے معذرت کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی جہالت کو جسٹیفائی کر دیا جو کہ انکے لیڈر کا بھی شیوہ ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین جہاں اس بیان کو مزاح کے پہلو سے دیکھتے رہے وہیں کچھ صارفین غیر ارادی طور پر ہوجانے والے غلطیوں کو درگزر کرنے کی تلقین کرتے دکھائی دیے۔ملیحہ ہاشمی نامی ایک صارف نے زرتاج گل کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آپ ایک اچھی مقررہ ہیں۔ کبھی کبھی ، ان غیر ارادی غلطیوں سے تفریح فراہم ہوجاتی ہے اور ہنسنے کا موقع مل جاتا ہے۔ زرتاج گل کے وضاحتی پیغام کے نیچے صارفین ان کے حق میں بیان دیتے بھی نظر آئے جبکہ کچھ صارفین نے کرونا وائرس کے سبب مشکل وقت میں ہنسنے کا موقع فرام کرنے پر وزیر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ تحریک انصاف کے حامی اور زرتاج گل کے مداح سوشل میڈیا پر اس بیان سے متعلق لطیفوں پر خاصے برہم دکھائی دیے۔ بتول جنجوعہ نامی ایک صارف کو یہ تمام طعنے ایک پل نہ بھائے اور انھوں نے لکھا کہ ‘یقیناً ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں کے پاس اتنا فارغ وقت ہوتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ کسی کا مذاق اڑانا اصل کام ہے۔انھوں نے زرتاج گل کو کہا کہ وہ شیرنی کی طرح کام کرتی رہیں۔ یعنی جیسے بونگے لیڈر ہیں ویسے ہی ہونگے انکے ہمدرد بھی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button