زرداری کی شجاعت سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین  اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت  سے ملاقات کی ہے۔ملاقات اسلام آباد میں ہوئی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر چودھری طارق بشیر چیمہ بھی موجود تھے۔

دوسری جانب حکومت نے پنجاب میں گورنر راج لگانے کے بجائے ان ہاؤس تبدیلی کو زیادہ مضبوط آپشن قرار دیتے ہوئے اقدامات شروع کر دیئے۔ذرائع کے مطابق ان ہاؤس تبدیلی کیلئے اعتماد کے ووٹ کا آپشن استعمال کیا جائے گا، اس سلسلہ میں آصف زرداری کو ٹاسک دے دیا گیا ہے ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جائے گی، تحریک انصاف اور ق لیگ اتحاد اعتماد کا ووٹ نہ لے سکا تو وزیر اعلیٰ کا دوبارہ انتخاب ہو گا، ق لیگ کے چھ ارکان کی شجاعت کیمپ میں واپسی اس سلسلہ میں گیم چینجر بن سکتی ہے۔

آصف زرداری نے پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے لئے پی ڈی ایم کی سرگرمیاں رکوادیں،سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور سابق وزیراعظم ن لیگ کے قائد نوازشریف کے مابین ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے۔

ذرائع کےمطابق سابق صدر آصف زرداری نے نوازشریف کو اپنے رابطوں کی بنیاد پر پنجاب میں تحریک عدم اعتماد وقتی طور پر روکنے کا مشورہ دیا ہے، جب کہ نوازشریف نے بھی پارٹی رہنماؤں سے ٹیلی فونک مشاورت میں آصف زرداری کی رائے سے آگاہ کردیا ہے۔

ذرائع کا کہناتھاآصف زرداری نے پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے لئے پی ڈی ایم کی سرگرمیاں رکوا دی ہیں، کیوں کہ پیپلزپارٹی کے رہنما پر امید ہیں کہ پرویزالہی چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر اسمبلی نہیں توڑیں گے، آصف زرداری کے رابطے اور مشورے کے بعد نوازشریف نے بھی وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو اپنی پوری توجہ معیشت بحالی پر مرکوز رکھنے کی ہدیت کردی ہے۔

 

ادھر حکمران اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بذریعہ صدر نہیں بلکہ براہ راست بات کریں، مذاکرات غیر مشروط اور اوپن ہوں تو ہی غور کیا جائے گا۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے عمران خان کو براہ راست رابطہ کرنے پڑے گا، عمران خان آگے بڑھیں، پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے، تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں توڑی گئیں تو پی ڈی ایم اپنی حکمت عملی سامنے لائے گی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت عام انتخابات کی تاریخ دے ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے،عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کے اعلان کے بعد ملک میں سیاسی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ جس کے بعد پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل جماعتیں عمران خان کی اس سیاسی چال کو ناکام بنانے کی کوششیں میں مصروف ہیں۔

Back to top button