فوج کو سیاست سے مکمل آئوٹ کرنے کا فارمولا کیا ہے؟

معروف تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ فوجی قیادت کی جانب سے اپنے ادارے کو غیر سیاسی کرنے کے اعلان کے بعد اب ضروری ہو چکا ہے کہ پاکستانی سیاستدان بھی افواج کو سیاست میں ملوث کرنے کی بجائے اپنے معاملات مل بیٹھ کر خود طے کرنے کی کوشش کریں اور ایک نئے میثاق کی بنیاد ڈالیں تاکہ فوج کو سیاست سے مکمل طور پر آؤٹ کیا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ 2006 میں بینظیر بھٹو شہید اور نواز شریف کے مابین مشرف کیخلاف جو میثاق جمہوریت سائن ہوا اس سے فوج کا سیاسی کردار ختم ہونے جا رہا تھا چنانچہ پروجیکٹ عمران کی بنیاد رکھی گئی اور ایک ہائبرڈ سیاسی نظام کے ذریعے میثاق جمہوریت کو اُلٹ دیا گیا۔ اب جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہائبرڈ نظام حکومت کا تجربہ بری ناکام ہو چکا اور فوج پیچھے ہٹ رہی ہے تو سیاست دانوں کو یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے ورنہ بحران در بحران ہمارا مقدر رہے گا اور جانے یہ کہاں جا کر ختم ہو۔ ہماری سیاسی قیادت نے ہوش کے ناخن اب بھی نہ لئے تو کب لے گی؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ سیاسی بحران ایسا ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ سیاسی انتشار ہو، معاشی ابتلا یا پھر ریاستی بندوبست سب بیک وقت الجھاؤ میں ہیں۔ اور سرا ہاتھ نہیں آرہا کہ ماضی کی سب تدبیریں اُلٹ پلٹ ہوگئیں، نہ پرانے نسخے کسی کام کے رہے اور نہ ایسی کوئی سوجھ جو نئی راہ سجھا دے۔ غرض ہر کوئی اپنی اپنی دھن کی بے فکری میں مگن اور مرنے مارنے پر تلا بیٹھا ہے۔ ایک طرف عمران خان دیواروں سے سر ٹکرا رہے ہیں تو دوسری طرف جانب تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پی ڈی ایم کے گلے میں ڈھول بن کر پڑ چکی ہے جسے وہ بجا رہی ہے۔سیاسی حریف اپنی اپنی چالیں چلتے نڈھال ہوئے جاتے ہیں مگر سیاسی اناؤں کی اسیری میں بدحال مملکت کو درپیش بحران ایسا لاینحل ہے کہ سب کی سِٹی گم ہوئی لگتی ہے۔ سیاسی سرکس کا تماشہ ایسا لگا ہے کہ حقیقی وجودی بحران اور معاشی دیوالیہ سب کو لپیٹنے جارہا ہے اور المیہ ہے کہ کسی کو فکر لاحق نہیں۔ سیاسی بحران تو کوئی بڑا معمہ نہیں، اگر عمران خان انا کی بلند ترین چوٹی سے نیچے اُتر آئیں اور اتحادی حکومت کسی بڑے معجزے کی اُمید ترک کردے تو ایک عملی حل نکل سکتا ہے۔ انتخابات اکتوبر میں نہ سہی، کچھ پہلے کرلینے میں کیا حرج ہے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ویسے بھی اگلے برس جون میں بجٹ پیش کرنے کی اتحادی حکومت متحمل نہیں ہوسکتی، یہ بلا عبوری حکومت کے سر منڈھ دی جائے تو اسی میں سب کی عافیت ہے۔ کیا عمران مارچ /اپریل میں انتخابات کروا کر، کامیابی کی صورت میں اگلا بجٹ پیش کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں جو اتنا جلد انتخابات پر اصرار کررہے ہیں۔ میرا وجدان ہے کہ درمیانی مدت پہ اتفاق ہوسکتا ہے۔
مئی کے آخر تک سب اسمبلیاں اتفاق رائے سے تحلیل کر کے جون میں 90 روزہ عبوری حکومت پہ اتفاق کر لیا جائے جو اگست میں انتخابات کا انعقاد کروادے۔ فقط انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کافی نہیں ہوگا۔ آزادانہ و منصفانہ انتخابات پہ سبھی جماعتوں میں اتفاق رائے ضروری ہوگا تاکہ انتخابات کے نتائج پہ نیا سیاسی جھگڑا نہ کھڑا ہوجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی و سلامتی کی پالیسیوں پہ بھی کڑوی گولیاں کھانے پہ سب کو تیار ہونا ہوگا۔ معاشی بحران بدقسمتی سے پورے کروفر کے ساتھ آپہنچا ہے اور اس کا کوئی فوری حل نہیں۔ اس سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی اقدامات کے ساتھ ساتھ درمیانی اور لمبی مدت کے حقیقی اصلاحی اقدات اور منصوبہ سازی کی ضرورت ہے۔ پھر بھی اگلی دوچار حکومتیں معاشی بحران کو سنبھالنے میں خرچ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ سوال اور چیلنجز بڑے ہیں اور حل دشوار اور پیچیدہ تر۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ پہلا بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان قومی سلامتی کی عسکریت پسند ریاست کے طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 7 ارب ڈالرز ہیں اور بھارت کے 600 ارب ڈالرز سے اوپر ہیں۔ افغان جہاد اسٹرٹیجک گیرائی کی بجائے گہری کھائی بن گیا ہے۔ اب تو افغان طالبان نے پاکستان کے پورے شمال مغربی علاقے کے ساتھ ساتھ کشمیر تک افغان راجدھانی کے ابدالی خواب کا نقشہ بھی شائع کر دیا ہے اور تحریک طالبان پاکستان اور برصغیر کی داعش نے غزوہ ہند کا آغاز پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے جہاد سے شروع کردیا ہے، جبکہ جاری دفاعی بجٹ کے لئے قرض ملنے کی اُمید کم ہی ہے اور اگر کچھ ملا بھی تو کن شرائط پر؟ سب سے پہلے تو دفاعی کمر کسنے کی ضرورت ہوگی اور طاقتور اس پر راضی ہوں گے بھی یا نہیں۔ ملک کے اندر جاری شورشوں کا سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو پھر بیرونی طاقتوں کے کھل کر کھیلنے کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ رہا ہائبرڈ سیاسی نظام تو اس کا خمیازہ اس کے موجدین بھگت چکے، اس کی نوک پلک سنوارنے کی بجائے سیاست سے کنارہ کشی کا اداراتی تقاضہ بڑا چیلنج ہوگا۔ شکر ہے کہ نئے آرمی چیف صفحہ اول سے غائب ہیں اور آئی ایس پی آر نئی تعیناتیوں پر بھی خاموش ہے۔ فوج کو سول معاملات سے علیحدہ کرنے اور کارپوریٹ دائرہ عمل کو محدود تر کرنے میں ہی سول سوسائٹی کی عافیت ہے۔
امتیاز عالم کے بقول سب سے بڑا چیلنج جو کہ بنیادی تضاد بھی ہے، وہ سول ملٹری تعلقات ہیں جن کا آئین کی روح کے مطابق از سر نو تعین ضروری ہے۔ اس میں پہلی شرط تو یہ ہے کہ افواج ماسوائے دفاع کے تمام معاملات سے خود کو سختی سے علیحدہ کریں اور دوسری شرط یہ ہے کہ سیاستدان افواج کو سیاست میں ملوث کرنے کی بجائے اپنے معاملات آپس میں افہام و تفہیم سے حل کرنے کی نہ صرف کوشش کریں بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی و سماجی قوتوں کے مابین ایک نئے میثاق کی بنیاد ڈالیں۔
