زلفی بخاری رنگ روڈ سکینڈل میں ملوث نکلے

زلفی بخاری کی جانب سے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں اپنے رشتہ داروں کے مستفید ہونے کی پرزور تردید کے بعد ان کی ہمشیرہ کی 130 کنال اراضی کا ثبوت سامنے آ گیا ہے جس سے زلفی کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں زلفی بخاری نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر ان کی یا ان کے کسی عزیز یا جاننے والے کی راولپنڈی رنگ روڈ کے آس پاس ایک انچ زمین بھی ثابت ہوگئی تو جو بھی سزا دی جائے گی میں اسے بھگتنے کے لیے تیار ہوں گا۔ بخاری نے وضاحت اور صراحت کے ساتھ کہا کہ ان کے والد، والدہ، بہن، بھائی یا قرابت داروں میں سے کسی کی بھی راولپنڈی رنگ روڈ کے آس پاس کوئی زمین نہیں ہے اور وہ قطعا اس منصوبے میں توسیع سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ انکا دعویٰ تھا کہ ان کے حوالے سے تمام تر الزامات بے بنیاد اور بے سروپا ہیں۔ جب زلفی بخاری سے سوال کیا گیا کہ آپ پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ آپ نے اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے راولپنڈی رنگ روڈ کے آس پاس زمین خریدی ہے تاکہ اسے مہنگے داموں بیچا جائے تو اس پر زلفی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو شخص بھی کوئی کام نہیں کرتا وہ ایک کام ضرور کرتا ہے یعنی وہ کام کرنے والوں پر بے بنیاد الزامات ضرور لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نیویارک میں واقع پی آئی اے کے ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت میں میرا نام لیا گیا اور اب رنگ روڈ کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن اس مرتبہ میں الزام لگانے والوں کو چھوڑوں گا نہیں۔
تاہم زلفی بخاری کے تمام تر دعووں کے برعکس اب ایسے ناقابل تردید شواہد سامنے آ گے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زلفی کی ہمشیرہ سکینہ بخاری راولپنڈی رنگ روڈ توسیع منصوبے سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں لہذا زلفی بخاری پر لگائے گئے الزامات کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ زلفیں کی ہمشیرہ کے نام جو سینکڑوں کنال زمین موجود ہے وہ دراصل زلفی کی اپنی ملکیت ہے اور ان کی ہمشیرہ ان کی بے نامی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چھ نومبر 2019 کو ایک خاتون نے مقامی تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ سائلہ 2007 سے الانعام ڈویلپرز پرائیویٹ لمیٹڈ موضع مورت فتح جنگ ضلع اٹک میں 38 فیصد شیئرز کی مالک ہیں۔ چونکہ الانعام ڈویلپرز کے پاس تین سو کنال زمین ہے لہذا ان کے حصے میں 123 کنال 18 مرلے اراضی آتی ہے۔ موقف اپنایا گیا کہ الانعام ڈویلپرز کے سی ای او شوکت شاہ نے دیگر افراد راجہ ساجد، اعظم خان اور منظر عطاء کے ساتھ باز کرکے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو یہ باور کرایا کہ سائلہ کو الانعام ڈویلپر سے فارغ کر دیا گیا ہے اور بعد ازاں ان کے حصے میں آنے والی زمین بھی دو نمبری کر کے بیج دی گئی۔ لیکن اس کہانی میں حیران کن بات یہ ہے کہ درخواست گزار کا نام سیدہ سکینہ بخاری دختر سید واجد حسین شاہ بخاری ہے یعنی وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی اور راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے زلفی بخاری کی سگی بہن ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب محکمہ مال کی دستاویزات اور ایف آئی آر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ میں توسیع کر کے زلفی بخاری کی ہمشیرہ کے نام 123 کنال 18 مرلے اراضی کی قیمت بڑھا کر انہیں فائدہ پہنچایا جا رہا تھا۔ لہذا زلفی بخاری کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ ان کے کسی عزیز کو راولپنڈی رنگ روڈ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تھا، سفید جھوٹ ثابت ہو رہا ہے۔
اگرچہ زلفی بخاری رنگ روڈ اسکینڈل میں نام آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر خود کو احتساب کے لئے پیش کر چکے ہیں تاہم ان کی ہمشیرہ کے نام فتح جنگ میں 130 کنال سے زیادہ اراضی کا ثبوت سامنے آنے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے قریبی دوست کو رنگ روڈ سکینڈل میں رگڑا کھانے سے کس طرح بچاتے ہیں۔
خیال رہے کہ شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران روات سے ٹھلیاں تک راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ منظور کیا تھا جس میں تحریک انصاف حکومت نے بعد ازاں ٹھلیاں اور پسوال زگ زیگ تک کئی کلومیٹر کا اضافہ کر دیا تاکہ رنگ روڈ زلفی بخاری کی ہمشیرہ اور وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی زمینوں سے بھی گزر سکے اور ان کی قیمت میں اضافہ ہو جائے۔ یاد رہے کہ رنگ روڈ کے توسیعی منصوبے کی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان سے لی گئی تھی جس سے زلفی کی ہمشیرہ اور تحریک انصاف کے دیگر سیاستدانوں اور فرنٹ مینوں کی ملکیتی زمین کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہونے جارہا تھا۔راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں جہاں غلام سرور خان اور زلفی بخاری کا نام آیا ہے وہیں اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے والوں میں میں زلفی کے پرسنل سیکرٹری ملک نوید اقبال آف پنڈ سلطانی بھی شامل ہیں۔ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ وہی نوید اقبال ہے جو آج سے چار سال قبل ایک پراپرٹی آفس میں دس ہزار روپے ماہوار پر آفس بوائے کی نوکری کر رہا تھا مگر اب راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں اپنے باس کی مدد سے اس قدر مال اکٹھا کرلیا ہے کہ مقامی افراد کے مطابق نوید اقبال ارب پتی بن چکا ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ نوید اقبال کی ملکیتی تمام زمینی در اصل ذلفی بخاری کی ہیں اور وہ ان کا بے نامی ہے۔
یاد رہے کہ ملک نوید اقبال لال رنگ روڈ سے مستفید ہونے والی نووا سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم میں بھی پیش پیش تھا۔

Back to top button