زندگی کی جنگ ہارنے والے مشاہد اللہ عزت کی جنگ جیت گئے

https://youtu.be/YCEaaUVa7Ho

نواز لیگ کے دبنگ رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان زندگی کی جنگ ہار جانے کے باوجود عزت کی جنگ جیت گئے۔ مشاہد اللہ خان نے اپنے خلاف ایک جھوٹی خبر چلانے پر میاں عامر محمود کے ملکیتی دنیا نیوز ٹی وی کے خلاف لندن کی ایک عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کیا تھا جس کا فیصلہ اب انکے حق میں آ گیا ہے اور ان پر لگایا گیا الزام انکی اچانک وفات کے تین ماہ بعد جھوٹا قرار پایا ہے۔ دنیا ٹی وی کو تب شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب برطانوی میڈیا ریگولیٹر "آف کام” نے مشاہداللہ خان پر قومی انٹرنیشنل ائیر لائنز کے فنڈز سے بیرون ملک علاج کروانے سمیت عائد کردہ مختلف الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا اور دنیا ٹی وی کے پیش کردہ تمام تر ثبوت مسترد کر دئیے۔
خیال رہے کہ دنیا ٹی وی اسلام آباد کے بیوروچیف خاور گھمن نے نواز لیگ کے مرحوم سینیٹر پر جھوٹے الزامات عائد کیے تھے کہ انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا پیسہ لندن میں رہنے اور علاج معالجے کے لئے استعمال کیا۔ دنیا ٹی وی نے کراچی میں مئی 2020 میں پی آئی اے کے ایک طیارے کے حادثے کی رپورٹ بارے 24 جون 2020 کو ایک پروگرام آن ائر کیا تھا جس میں خاور گھمن نے دعویٰ کیا تھا کہ سینیٹر مشاہد اللہ خان کا پی آئی اے کے پیسے سے لندن میں علاج اور ہوٹل میں قیام ہوا تھا۔ اس نے یہ لغو الزام بھی لگایا تھا کہ پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ دار بھی مشاہداللہ ہی تھے۔ چنانچہ مشاہد اللہ نے ان بے بنیاد الزامات کو رد کرتے ہوئے دنیا ٹی وی کو چیلنج کیا تھا کہ انہیں ثابت کرے۔ انکا موقف تھا کہ الزامات جھوٹے ہیں اور انھوں نے کبھی سرکاری ذرائع اور پیسہ اپنی ذات پر خرچ نہیں کیا۔ انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ دنیا ٹی وی ان کے خلاف ثبوت پیش کرے اور انہیں قصور وار ثابت کرے۔ انہوں نے برطانوی ریگولیٹر آف کام کو کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف الزامات سچ ثابت ہوئے تو وہ کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔
مرحوم مشاہد اللہ خان نے آف کام کو بتایا تھا کہ خاور گھمن تحریک انصاف کے حامی اینکر ہیں جنہوں نے حکمران پارٹی تحریک انصاف کے جھوٹے بیانیے کی حمایت میں بغیر کسی ثبوت کے انکی ذات کو بدنام کیا ، لیکن ان کے پاس اپنے بے بنیاد دعووں کی حمایت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
دنیا ٹی وی نے اپنے دفاع میں کہا کہ پروگرام وفاقی وزیر ایوی ایشن کی پریس کانفرنس کے بعد نشر کیا گیا تھا، جس میں پی آئی اے میں پچھلے حکومتی نمائندوں کی جانب سے پائلٹس کو جعلی لائسنسوں کے اجرا اور من مانی تقرریوں سمیت ایشوز کو اجاگر کیا گیا تھا۔ تاہم دنیا ٹی وی نے یو کے میڈیا ریگولیٹر آف کام کے سامنے تسلیم کیا کہ اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مشاہد اللہ خان نے پی آئی اے کا پیسہ استعمال کیا. دنیاٹی وی نے آف کام کو بتایا کہ خاور گھمن نے فواد چودھری کی جانب سے قومی اسمبلی میں مشاہد اللہ خان پر لگائے الزامات دہرائے تھے، لیکن آف کام نے یہ دفاع مسترد کردیا اور چینل سے ثبوت پیش کرنے کو کہا۔ ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر دنیا ٹی وی کے وکیلوں نے خاور گھمن کو اپنا ملازم ماننے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ وہ شو میں صرف مہمان کے طور پر شریک ہوئے اور ان کی رائے ادارے کی پالیسی نہیں۔ تاہم مرحوم مشاہد اللہ خان کے وکلاء نے آف کام کو ثبوت کے ساتھ بتایا کہ مسٹر گھمن اسلام آباد میں دنیاٹی وی کے بیورو چیف ہیں۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد آف کام نے مشاہد اللہ خان کا ہتک عزت کا دعویٰ قبول کرتے ہوئے دنیا ٹی وی کو جھوٹا قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے ساتھ غیر منصفانہ اور غیرذمہ دارانہ برتائو ہوا۔
یوں اپنی اچانک وفات کے تین ماہ بعد سینیٹر مشاہد اللہ خان خود پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت کرکے ہوئے سرخرو ہوئے۔ یاد رہے کہ ان کا انتقال رواں سال فروری میں ہوا تھا جس کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر افنان اللہ خان کو نواز لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر بنا دیا گیا۔

Back to top button