زیرِ زمین غار میں 500 روز تنہا رہنے والی خاتون

اسپین کی ایک کوہ پیما (ایکسٹریم ایتھلیٹ) نے انسانی تجربے کے تحت ایک غار میں نہ صرف 500 روز تنہا گزارنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے بلکہ وہ سائنسی تجربے کا حصہ بھی بنی ہیں۔
50 سالہ بیٹریز فلیمینی اپنے طویل مشن سے باہر آئیں تو انہوں نے گہرے رنگ کا چشمہ پہنا تھا تاکہ ان کی آنکھیں دھوپ کو برداشت کرسکیں۔ انہوں نے جنوبی اسپین کے شہر غرناطہ کے ایک گہرے غار میں دو سال کا عرصہ اکیلے گزارا جو 70 فٹ زیرِ زمین تھا۔
20 نومبر 2021 کو بیٹریز فلیمینی غار میں گئی تھیں اور 14 اپریل کو واپس آئی ہیں۔ تاہم اس دوران وہ 8 روز کے لیے باہر ضرور آئی تھیں تاکہ ان کے انٹرنیٹ راؤٹر کی مرمت ہوسکے۔ اسی کی بدولت انہوں نےباہر موجود سائنسدانوں سے اپنا رابطہ بحال رکھا تھا۔ تاہم بیٹریز نے یہ 8 دن بھی ایک خیمے میں ہی بسر کئے تھے۔
اس دوران وہ ورزش کرتی رہیں، مصوری میں وقت گزارا، کڑھائی کا سہارا لیا اور اپنی کتاب پر کام کیا۔ اپنے وقت کو ریکارڈ کرنے کے لیے ان کے پاس دو گو پرو کیمرے بھی تھے۔ ان کے پاس 1000 لیٹر پانی تھا اور پڑھنے کےلیے 60 کتابیں بھی تھیں۔
