سابق صدر پرویز مشرف واپس نہیں آئیں گے

سابق صدر جنرل ( ر) پرویز مشرف پاکستان واپس نہیں آئین گے، کیونکہ ڈاکٹروں نے انہیں سفر کرنے سے منع کر دیا ہے ۔
جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سابق فوجی آمر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا جلد وطن واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں کیوں کہ ان کی سانس اکھڑ جاتی ہے اورڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ فضائی سفر سے اجتناب کریں۔
ذرائع کے مطابق طارق عزیز جو کہ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل بھی رہے، انہوں نے کو بتایا کہ جنرل پرویز مشرف وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی رائے آڑے آگئی ہے۔
انکا کہناتھا سابق صدر کی اہلیہ صہبا مشرف سے بھی رابطے میں ہیں جو اپنے شوہر کے ساتھ دبئی کے اسپتال میں ہیں،سابق صدر کے گھر والوں نے ان تمام افراد سے اظہار تشکر کیا ہے جنہوں نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پرویز مشرف کی صحت یابی کی دعائیں کی ہیں، پرویز مشرف اور ان کی اہلیہ بیماری سے زیادہ تنہائی کے باعث پریشان ہیں کیوں کہ یہ ان کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری کہنا تھا کہ سابق صدر کے لیے زیادہ باتیں کرنا مشکل ہے اس کے باوجود وہ ملک کے حالات سے متعلق پوچھتے رہتے ہیں اور ہر وقت پاکستان کے لیے دعا کرتے ہیں۔
ادھر یو اے ای کی حکومت سابق صدر کو بوئنگ۔777 فراہم کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔
