سابق گورنر سندھ عشرت العباد بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے

سابق گورنر سندھ عشرت العباد بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے۔ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے عشرت العباد کے قریبی ساتھی اور دبئی فرار ہونے والے ایم کیو ایم کے سابق وزیر عادل صدیقی کے گھر پر چھاپا مارا۔ نیب حکام کی طرف سے عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی سے سابق گورنر عشرت العباد اور کراچی میں غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ بارے پوچھ گچھ کی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب کی طرف سے ان کی گلشن اقبال بلاک 2 میں واقع رہائش گاہ پر چھاپا مارا گیا ہے۔ ریفرنس میں نامزد ایک اور ملزم محمود صدیقی کے گھر پر بھی نیب نے چھاپہ مارا ہے۔ نیب حکام نے عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے دبئی میں مقیم سابق گورنر عشرت العباد کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق صوبائی وزیرعادل صدیقی پر سندھ اسمال انڈسٹریز کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور فنڈز میں خرد برد کا الزام ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ عادل صدیقی نے شہر کی درجنوں ہوسنگ سوسائیٹیز میں ہزاروں جعلی پلاٹوں کی جعلی فائلیں بناکر اربوں رپوں میں فروخت کیں۔ عادل صدیقی پانچ وزارتوں کے تنہا وزیر تھے ان وزارتوں سے ماہانہ کروڑوں روپے خورد برد کرکے ایم کیو ایم کے قائد کے لئے منی لانڈرنگ میں ملوث رہے۔ عادل صدیقی کی ہی ہدایت پر ان کا بھائی کاشف صدیقی اب بھی ایم کیو ایم کے قائد کی سائرہ بیگم کے گھر کے اخراجات برداشت کررہا ہے۔
دوسری طرف عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی کی تعلیمی بورڈ میں جعلی بھرتی اور جعلی ترقیوں کی بھی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ انٹر بورڈ میں بھرتی ہونے والے پی آر او عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی کو سابق گورنرعشرت العباد کی ایما پر حیدرآباد کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔ عشرت العباد کی ہی سفارش پرغیر قانونی طور پر کاشف صدیقی کو براہ راست گریڈ19میں بھرتی کرکے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات کردیا گیا۔عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی کو عشرت العباد کی سفارش پر ڈپٹی سیکریٹری داخلہ سندھ اسلحہ لائسنس برانچ تعینات کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اب بھی عادل صدیقی کا بھائی گھر بیٹھے پی آر او انٹر بورڈ کی تنخواہ وصول کررہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button