فوج تعینات کرنے کا بیان: صدر ٹرمپ سخت تنقید کی زد میں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کےلیے فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم ان کے اس فیصلے پر وزیر دفاع مارک ایسپر اور پینٹاگون کے چند سابق عہدے داروں نے اعتراض کیا تھا۔ اس سے ٹرمپ اور فوج کے تعلقات میں دراڑ آگئی ہے۔
بدھ کو مارک ایسپر نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کےلیے فوج کی تعیناتی کے خلاف ہیں۔ سال 1807 کے بغاوت کے قانون کے بارے میں بات کرتے ہوئے مارک ایسپر نے کہا تھا کہ میں انسریکشن ایکٹ کے استعمال کی حمایت نہیں کرتا۔’وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ میں 1807 کا قانون انتہائی ضروری اور سنگین حالات میں نافذ ہونا چاہیے جب کہ ابھی ہم ان حالات میں نہیں ہیں۔ ان کے بیان کے چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سابق وزیر دفاع جم میٹس نے بھی ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی۔ جم میٹس کا کہنا تھا کہ 50 سال قبل جب میں فوج میں شامل ہوا تھا تو میں نے آئین کے دفاع کا عہد لیا تھا۔
امریکیوں کے مظاہرے کرنے کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ دیگر افواج جنہوں نے یہی عہد لیا تھا ان کو کسی بھی حال میں اپنے شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا حکم دیا جائے گا۔جم میٹس نے دو سال ٹرمپ کے وزیر دفاع کے طور پر کام کیا اور معاملات ناسازگار ہونے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ میری زندگی میں ڈونلڈ ٹرمپ وہ پہلے صدر ہیں جو امریکیوں کو متحد کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ ہمیں الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بارے میں پنٹاگون کے 2011 سے 2015 تک رہنے والے اعلیٰ افسر ریٹائرڈ جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا تھا کہ، امریکہ کوئی جنگ کا میدان نہیں۔ ہمارے شہرے ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ ان سے پہلے پینٹاگون کے ٹاپ جنرل رہنے والے ریٹائرڈ ایڈمائرل مائک مولین کا کہنا تھا کہ، ‘مجھے بہت فکر ہے۔۔۔ہماری فوج کے ارکان کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ کے شہر منی ایپلس میں گزشتہ ماہ پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص، جارج فلوئیڈ، کی ہلاکت ہوگئی تھی، جس پر امریکہ بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button