ساجد گوندل نے اپنے اغواء کاروں بارے بتا دیا

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کےجوائنٹ ڈائریکٹرساجد گوندل 5روز بعد واپس گھر پہنچ گئے.ساجد گوندل نے پولیس کو دئیے گئے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ تین ستمبر کو انھیں مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھااغوا کاروں نے انھیں خوفزدہ کیالیکن تشدد نہیں کیا.قبل ازیں ساجد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ دوستوں کے ساتھ شمالی علاقے گھومنے گیا تھا لیکن موبائل خرابی کی وجہ سے وہ گھر والوں کو مطلع نہ کر سکے.
خیال رہے کہ ساجد گوندل کے اغواء ہونے کے بعد معاملہ میڈیا پر آیا جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مغوی کی بازیابی کا حکم دیا اور معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے اٹھانے کی ہدایت کی جس کے بعد تین رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی اور 8 ستمبر کی رات ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹرساجد گوندل گزشتہ شام گھر پہنچ گئے۔ ساجد گوندل نے خود ٹویٹ کرکے اپنے خیریت سے ہونے کی اطلاع دی،ان دوستوں کا شکریہ بھی ادا کیا، جو ان کیلئے پریشان تھے، ساجد گوندل نے لکھا کہ وہ محفوظ ہیں اور خیریت سے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل نے پانچ روزہ گمشدگی کے بعد گھر پہنچنے کے فورا بعد پولیس کو دیے گے بیان میں کہا تھا کہ وہ محکمہ زراعت کے دفتر کے باہر اپنی گاڑی پارک کر کے دوستوں کیساتھ ناردرن ایریا کی سیر کیلئے چلے گے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اپنا موبائل فون بند ہو جانے کی وجہ سے ان کا اہنے گھر رابطہ نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ساجد گوند ل نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ تین ستمبر کو پانچ سے چھے افراد گن پوائنٹ پر زبردستی اپنے ساتھ لیکر گئے،،مسلح افراد نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی اور دو گھنٹے تک گاڑی میں سٹرکوں پر گھومتے رہے،اُن کا کہنا تھا یہ میرے مخالفین کی کارروائی لگتی ہے،اُن کا کہناتھااغوا کاروں نے انھیں خوفزدہ کیا لیکن تشدد نہیں کیا اور پھر انھیں نامعلوم مقام پر چھوڑ دیا. پولیس حکام کے مطابق ساجد گوندل کا دفعہ 164 کے تحت بھی مجسٹریٹ کے سامنے قلم بند کروایا جائیگا
یاد رہے کہ ساجد گوندل ایس ای سی پی میں تعیناتی سے قبل صحافت کے پیشے سے منسلک تھے اور انگریزی اخبار ڈان میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور سوشل میڈیا پر خصوصاً صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ جبکہ ان کی بازیابی کی خبر بھی فوراً پھیلی۔ یاد رہے کہ ساجد گوندل کو اسی رات رہا کیا گیا جس دن ان کے بوڑھے والدین اوراہل خانہ نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج کیا تھا اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس احتجاج کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ساجد گوندل کی گرفتاری کو حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ دس روز کے اندر مغوی کو بازیاب کرواکر عدالت میں پیش کریں۔
اسی طرح وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد سے مسلسل لوگوں کا ‘لاپتہ’ ہونا ناقابل قبول ہے کیونکہ تمام جرائم سے نمٹنے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر آئی جی اور وزارت داخلہ کو سخت احکامات دیے گئے تھے اور ساجد گوندل کی محفوظ واپسی بہت اچھی بات ہے۔
